صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
801. (568) باب ذكر البيان ضد قول من زعم أن النبى صلى الله عليه وسلم إنما صلى على راحلته تطوعا حيث ما توجهت به إذا كانت متوجهة نحو القبلة
ان علماء کے قول کے خلاف دلیل کا بیان جو کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری پر نفل نماز صرف اس وقت پڑھی ہے جب آپ کی سواری قبلہ رخ چل رہی ہوتی تھی
حدیث نمبر: 1267
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، نَا يَحْيَى ، نَا عَبْدُ الْمَلِكِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ مُتَوَجِّهًا مِنْ مَكَّةَ، فَنَزَلَتْ: أَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر مکّہ مکرّمہ سے (مدینہ منوّرہ کی طرف) مُنہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی «فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ» [ سورة البقرة: 115 ] ”تم جس طرف بھی مُنہ کرو گے وہیں اللہ کا چہرہ ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع فى السفر على الدواب/حدیث: 1267]
تخریج الحدیث: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن عمر العدوي