صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
810. (577) باب ذكر الدليل على أن النبى صلى الله عليه وسلم إنما داوم على الركعتين بعد العصر بعدما صلاهما مرة لفضل الدوام على العمل
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ عصر کے بعد دو رکعت ادا کرنے کے بعد ان پر ہمیشگی اختیار کی ہے، عمل پر ہمیشگی اختیار کرنے کی فضیلت کی وجہ سے
حدیث نمبر: 1283
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: " كَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دَاوَمَ وَإِنْ قَلَّ ، وَكَانَ النَّبِيُّ إِذَا صَلَّى صَلاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا" وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ: الَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلاتِهِمْ دَائِمُونَ سورة المعارج آية 23
سیدہ عا ئشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ عمل سب سے زیادہ محبوب تھا جس پر ہمیشگی اور دوام اختیار فرماتے اگر چہ وہ تھوڑا ہوتا۔ نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو اس پر ہمیشگی اختیار کرتے۔ سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی «الَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ» (سچّے مومن وہ ہیں) ”جو اپنی نمازوں پر ہمیشگی اختیار کرتے ہیں۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأوقات التى ينهى عن صلاة التطوع فيهن/حدیث: 1283]
تخریج الحدیث:
الرواة الحديث:
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق