صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
822. (589) بَابُ النَّهْيِ عَنْ نَشْدِ الضَّوَالِّ فِي الْمَسْجِدِ
مسجد میں گم شدہ چیزوں کا اعلان کرنا منع ہے
حدیث نمبر: 1301
نَا بُنْدَارٌ ، وَأَبُو مُوسَى ، قَالا: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ وَهُوَ ابْنُ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ ، نَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ أَبِي سِنَانٍ الشَّيْبَانِيِّ ، ح وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، نَا وَكِيعٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ: مَنْ دَعَا إِلَى الْجَمَلِ الأَحْمَرِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا وَجَدْتَ، إِنَّمَا بُنِيَتِ الْمَسَاجِدُ لِمَا بُنِيَتْ لَهُ" . هَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی تو ایک شخص کہنے لگا کہ سرخ اونٹ کی طرف کس نے پکارا ہے؟ (کس نے اسے دیکھا ہے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اللہ کرے) تو اونٹ نہ پائے، بلاشبہ مساجد تو انہی کاموں کے لئے بنائی گئی ہیں جن کے لئے بنائی گئی ہیں (عبادت اور ذکر الہٰی کے لئے)“ یہ وکیع کی حدیث ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب فضائل المساجد وبنائها وتعظيمها/حدیث: 1301]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 569، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1301، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1652، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 9931، 9932، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 765، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4414، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23511»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1301 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1301
فوائد:
➊ مسجد میں گم شدہ چیز کا اعلان کرانا اور اسی طرح خرید و فروخت، مزدوری کرانا اور عقود طے کرنا ممنوع فعل ہے اور مسجد میں آواز بلند کرنا مکروہ ہے۔ [شرح النووي: 5/54]
➋ جو شخص مسجد میں گم شدہ چیز کا اعلان کرائے اس کے لیے یہ کہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ تیری چیز واپس نہ لوٹائے۔
➌ مسجد یا مسجد سے باہر گمشدہ چیز کا مسجد میں اعلان کرانا حرام ہے، البتہ مسجد سے باہر کھڑے ہو کر مسجد میں داخل ہونے اور نکلنے والوں سے گمشدہ چیز کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
➍ اگر کسی شخص کو گم شدہ چیز ملے تو وہ حاضرینِ مسجد کو مطلع کر سکتا ہے۔ یہ عمل بھی پسندیدہ نہیں کیونکہ مساجد ذکرِ الہٰی، عبادات اور علم و تذکرہِ علم کے لیے تعمیر ہوئی ہیں، لہٰذا اس کے لیے مسجد کا بیرونی حصہ استعمال کیا جائے۔
➊ مسجد میں گم شدہ چیز کا اعلان کرانا اور اسی طرح خرید و فروخت، مزدوری کرانا اور عقود طے کرنا ممنوع فعل ہے اور مسجد میں آواز بلند کرنا مکروہ ہے۔ [شرح النووي: 5/54]
➋ جو شخص مسجد میں گم شدہ چیز کا اعلان کرائے اس کے لیے یہ کہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ تیری چیز واپس نہ لوٹائے۔
➌ مسجد یا مسجد سے باہر گمشدہ چیز کا مسجد میں اعلان کرانا حرام ہے، البتہ مسجد سے باہر کھڑے ہو کر مسجد میں داخل ہونے اور نکلنے والوں سے گمشدہ چیز کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
➍ اگر کسی شخص کو گم شدہ چیز ملے تو وہ حاضرینِ مسجد کو مطلع کر سکتا ہے۔ یہ عمل بھی پسندیدہ نہیں کیونکہ مساجد ذکرِ الہٰی، عبادات اور علم و تذکرہِ علم کے لیے تعمیر ہوئی ہیں، لہٰذا اس کے لیے مسجد کا بیرونی حصہ استعمال کیا جائے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1301]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1301 in Urdu
سليمان بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي