صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
106. (105) باب فضل السواك وتضعيف فضل الصلاة التى يستاك لها على الصلاة التى لا يستاك لها- إن صح الخبر
جس نماز کے لیے مسواک کی جائے وہ اس نماز سے افضل ہے جس کے لیے مسواک نہ کی جائے، بشرطیکہ اس سلسلے میں مذکورہ حدیث صحیح ہو
حدیث نمبر: 137
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعِيدٍ ، نا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: فَذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَضْلُ الصَّلاةِ الَّتِي يُسْتَاكُ لَهَا عَلَى الصَّلاةِ الَّتِي لا يُسْتَاكُ لَهَا سَبْعِينَ ضِعْفًا" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا اسْتَثْنَيْتُ صِحَّةَ هَذَا الْخَبَرِ لأَنِّي خَائِفٌ أَنْ يَكُونَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، وَإِنَّمَا دَلَّسَهُ عَنْهُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نماز کے لیے مسواک کی جائے وہ اُس نماز سے ستر گناہ افضل ہے جس کے لیے مسواک نہ کی جائے۔“ اما م ابوبکر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کی صحت کو مستثنی قرار دیا ہے کیونکہ مجھے خدشہ ہے کہ محمد بن اسحاق نے یہ روایت محمد بن مسلم سے نہیں سنی بلکہ اس سے تدلیس کی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب سنن السواك وفضائله/حدیث: 137]
تخریج الحدیث: اسناده ضعيف
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 137 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق