صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
889. (656) باب الأمر بالصدقة عند كسوف الشمس
سورج گرہن کے وقت صدقہ کرنے کے حُکم کا بیان
حدیث نمبر: 1400
نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأُوَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ الشَّمْسَ كَسَفَتْ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَظَنَّ النَّاسُ أَنَّهَا كَسَفَتْ لِمَوْتِهِ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لا يَكْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلاةِ، وَإِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَادْعُوا وَتَصَدَّقُوا"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سورج کو اس دن گرہن لگ گیا جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لخت جگر سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی۔ تو لوگوں نے سمجھا کہ سورج گرہن اُن کی موت کی وجہ سے لگا ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (خطاب کے لئے) کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”لوگو، سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، انہیں کسی شخص کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا، لہٰذا جب تم گرہن لگا دیکھو تو نماز پڑھنے میں جلدی کرو، اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف لپکو، دعا کیا کرو اور صدقہ و خیرات کیا کرو۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة الكسوف/حدیث: 1400]
تخریج الحدیث: اسناده ضعيف
الرواة الحديث:
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي