علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
111. (110)- باب ذكر تسمية الله- عز وجل- عند الوضوء
وضو کرتے وقت بسم اللہ پڑھنی چاہیے
حدیث نمبر: 144
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَقَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: طَلَبَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضُوءًا، فَلَمْ يَجِدُوا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَاهُنَا مَاءٌ"، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضْعَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ الَّذِي فِيهِ الْمَاءُ، ثُمَّ قَالَ:" تَوَضَّئُوا بِسْمِ اللَّهِ"، فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَفُورُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ، وَالْقَوْمُ يَتَوَضَّئُونَ، حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ آخِرِهِمْ ، قَالَ ثَابِتٌ: فَقُلْتُ لأَنَسٍ: كَمْ تُرَاهُمْ كَانُوا؟ قَالَ: نَحْوًا مِنْ سَبْعِينَ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے پانی تلاش کیا مگر اُنہیں نہ ملا۔ (وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پانی کی قلّت کی شکایت کی) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(کیا تمہارے پاس) کچھ پانی ہے؟“ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھوڑا سا پانی لایا گیا) تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک پانی کے اُس برتن میں رکھا، پھر فرمایا: ”بسم اللہ پڑھ کر وضو کرو“ تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُنگلیوں کے درمیان سے پانی اُبلتا ہوا دیکھا جبکہ لوگ وضو کر رہے تھے حتیٰ کہ سب نے وضو کر لیا۔ ثابت کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا، آپ کے خیال میں وہ کتنے لوگ تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ ستّر کے قریب تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الوضوء وسننه/حدیث: 144]
تخریج الحدیث: اسناده صحيح
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 144 in Urdu
قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري