صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
111. (110)- باب ذكر تسمية الله- عز وجل- عند الوضوء
وضو کرتے وقت بسم اللہ پڑھنی چاہیے
حدیث نمبر: 144
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَقَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: طَلَبَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضُوءًا، فَلَمْ يَجِدُوا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَاهُنَا مَاءٌ"، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضْعَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ الَّذِي فِيهِ الْمَاءُ، ثُمَّ قَالَ:" تَوَضَّئُوا بِسْمِ اللَّهِ"، فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَفُورُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ، وَالْقَوْمُ يَتَوَضَّئُونَ، حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ آخِرِهِمْ ، قَالَ ثَابِتٌ: فَقُلْتُ لأَنَسٍ: كَمْ تُرَاهُمْ كَانُوا؟ قَالَ: نَحْوًا مِنْ سَبْعِينَ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے پانی تلاش کیا مگر اُنہیں نہ ملا۔ (وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پانی کی قلّت کی شکایت کی) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(کیا تمہارے پاس) کچھ پانی ہے؟“ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھوڑا سا پانی لایا گیا) تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک پانی کے اُس برتن میں رکھا، پھر فرمایا: ”بسم اللہ پڑھ کر وضو کرو“ تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُنگلیوں کے درمیان سے پانی اُبلتا ہوا دیکھا جبکہ لوگ وضو کر رہے تھے حتیٰ کہ سب نے وضو کر لیا۔ ثابت کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا، آپ کے خیال میں وہ کتنے لوگ تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ ستّر کے قریب تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الوضوء وسننه/حدیث: 144]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 169، 195، 200، 3572، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2279، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 124، 144، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6539، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 76، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 84، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3631، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 116، والدارقطني فى (سننه) برقم: 221، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12214»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 144 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 144
فوائد:
➊ وضو کے شروع میں بسم اللہ پڑھنا فرض اور صحتِ وضو کے لیے شرط ہے۔
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ وَلَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ تَعَالَى عَلَيْهِ»
”بے وضو شخص کی نماز نہیں اور جو شخص وضو کرتے وقت بسم اللہ نہ پڑھے اس کا وضو نہیں۔“ [سنن أبي داود: 101، سنن ابن ماجه: 399، صحيح الجامع: 2/418، 7514، اسنادہ صحیح]
➋ اگر کوئی شخص وضو کے آغاز میں بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں، کیونکہ اس سے خطا اور بھول چوک معاف ہے۔
البتہ اگر دورانِ وضو یاد آ جائے تو اسے یاد آنے پر بسم اللہ پڑھ لینی چاہیے۔
➊ وضو کے شروع میں بسم اللہ پڑھنا فرض اور صحتِ وضو کے لیے شرط ہے۔
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ وَلَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ تَعَالَى عَلَيْهِ»
”بے وضو شخص کی نماز نہیں اور جو شخص وضو کرتے وقت بسم اللہ نہ پڑھے اس کا وضو نہیں۔“ [سنن أبي داود: 101، سنن ابن ماجه: 399، صحيح الجامع: 2/418، 7514، اسنادہ صحیح]
➋ اگر کوئی شخص وضو کے آغاز میں بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں، کیونکہ اس سے خطا اور بھول چوک معاف ہے۔
البتہ اگر دورانِ وضو یاد آ جائے تو اسے یاد آنے پر بسم اللہ پڑھ لینی چاہیے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 144]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 144 in Urdu
قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري