صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
110. (109) باب إيجاب إحداث النية للوضوء والغسل
وضو اور غسل کے لئے نیت کرنا واجب ہے
حدیث نمبر: 143
نا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ، وَإِنَّمَا لامْرِئٍ مَا نَوَى"
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اعمال (کا اجر ثواب) نیت کے مطابق ہے۔ اور آدمی کے لیے وہی ہے جو اُس نے نیت کی۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الوضوء وسننه/حدیث: 143]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1، 54، 2529، 3898، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1907،، وابن الجارود فى "المنتقى"، 71، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 142، 143، 455، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 388، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 75، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2201، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1647، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4227، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 182، والدارقطني فى (سننه) برقم: 131، وأحمد فى (مسنده) برقم: 170، 306، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 37، والحميدي فى (مسنده) برقم: 28»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 143 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 143
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ نیک اعمال بجا لانے میں نیت شرط ہے۔
اور جو اعمال بلا نیت ادا کیے جائیں، وہ غیر معتبر ہیں۔ [نيل الأوطار: 148/1]
لہذا صحتِ وضو کے لیے نیت شرط ہے۔
➋ اوزاعی اور ابو حنیفہ رحمہ اللہ وضو میں نیت کی شرط عائد نہیں کرتے۔
ان کی دلیل یہ ہے کہ وضو مستقل عبادت نہیں بلکہ یہ عبادت یعنی نماز کا وسیلہ ہے۔
احناف کا یہ دعویٰ اپنے اس اصول کے خلاف ہے کہ تیمم کے لیے نیت شرط ہے اور تیمم بھی عبادت کا وسیلہ ہے، مستقل عبادت نہیں۔
(لہذا ان کا یہ دعویٰ باطل ہوا)
جب کہ جمہور علما نے وضو میں نیت کی شرط ہونے پر ان صحیح احادیث سے استدلال کیا ہے جو وضو پر ثواب حاصل ہونے کے وعدہ کی تصریح کرتی ہیں۔
لہذا وضو کے لیے نیت ضروری ہے جو دیگر اعمال سے اس کی تمیز کر سکے۔
تاکہ اس پر وضو کے وعدے کے مطابق ثواب حاصل ہو سکے۔ [فتح الباري: 179/1]
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ نیک اعمال بجا لانے میں نیت شرط ہے۔
اور جو اعمال بلا نیت ادا کیے جائیں، وہ غیر معتبر ہیں۔ [نيل الأوطار: 148/1]
لہذا صحتِ وضو کے لیے نیت شرط ہے۔
➋ اوزاعی اور ابو حنیفہ رحمہ اللہ وضو میں نیت کی شرط عائد نہیں کرتے۔
ان کی دلیل یہ ہے کہ وضو مستقل عبادت نہیں بلکہ یہ عبادت یعنی نماز کا وسیلہ ہے۔
احناف کا یہ دعویٰ اپنے اس اصول کے خلاف ہے کہ تیمم کے لیے نیت شرط ہے اور تیمم بھی عبادت کا وسیلہ ہے، مستقل عبادت نہیں۔
(لہذا ان کا یہ دعویٰ باطل ہوا)
جب کہ جمہور علما نے وضو میں نیت کی شرط ہونے پر ان صحیح احادیث سے استدلال کیا ہے جو وضو پر ثواب حاصل ہونے کے وعدہ کی تصریح کرتی ہیں۔
لہذا وضو کے لیے نیت ضروری ہے جو دیگر اعمال سے اس کی تمیز کر سکے۔
تاکہ اس پر وضو کے وعدے کے مطابق ثواب حاصل ہو سکے۔ [فتح الباري: 179/1]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 143]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 143 in Urdu
علقمة بن وقاص العتواري ← عمر بن الخطاب العدوي