صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
951. (718) باب استحباب الصلاة فى المنزل بعد الرجوع من المصلى
عید گاہ سے واپس آکر گھر میں نفل نماز ادا کرنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 1469
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ ، نَا أَبُو مُطَرِّفِ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُقَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لا يَخْرُجُ يَوْمَ الْعِيدِ حَتَّى يَطْعَمَ، فَإِذَا خَرَجَ صَلَّى لِلنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ، فَإِذَا رَجَعَ صَلَّى فِي بَيْتِهِ رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ لا يُصَلِّي قَبْلَ الصَّلاةِ شَيْئًا"
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر والے دن کچھ کھائے بغیر (عید گاہ کی طرف) نہیں جاتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاتے تو لوگوں کو دو رکعات پڑھاتے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر واپس تشریف لاتے تو اپنے گھر میں دو رکعات ادا فرماتے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے پہلے کوئی نماز (نفل) نہیں پڑھتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة العيدين، الفطر والأضحى، وما يحتاج فيهما من السنن/حدیث: 1469]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1469، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11396، 11531، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 1347، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 760، وأخرجه ابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 5648، وأخرجه الطبراني فى (الأوسط) برقم: 4502»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1469 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1469
فوائد:
نمازِ عیدین سے قبل مطلق نماز پڑھنا اور بعد میں عید گاہ میں نماز پڑھنا مکروہ ہے۔
البتہ نمازِ عید کے بعد گھر پر دو رکعت نماز پڑھنا مشروع اور مسنون فعل ہے۔
نمازِ عیدین سے قبل مطلق نماز پڑھنا اور بعد میں عید گاہ میں نماز پڑھنا مکروہ ہے۔
البتہ نمازِ عید کے بعد گھر پر دو رکعت نماز پڑھنا مشروع اور مسنون فعل ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1469]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1469 in Urdu
عطاء بن يسار الهلالي ← أبو سعيد الخدري