صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
جب قیامت کے دن لوگ اُٹھائے جائیں گے تو جمعہ اور جمعہ ادا کرنے والے افراد کی صف کا بیان اگر روایت صحیح ہو کیونکہ اس سند کے بارے میں میرا دل مطمئن نہیں ہے
حدیث نمبر: 1730
نا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ السِّمَّانِيُّ , حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنِي الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ . ح وَحَدَّثَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ ، أَخْبَرَنِي أَبُو مَعْبَدٍ وَهُوَ حَفْصُ بْنُ غَيْلانَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ الأَيَّامَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى هَيْئَتِهَا , وَيَبْعَثُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ زَهْرَاءَ مُنِيرَةً، أَهْلُهَا يَحُفُّونَ بِهَا كَالْعَرُوسِ تُهْدَى إِلَى كَرِيمِهَا , تُضِيءُ لَهُمْ , يَمْشُونَ فِي ضَوْئِهَا , أَلْوَانُهُمْ كَالثَّلْجِ بَيَاضًا , وَرِيحُهُمْ يَسْطَعُ كَالْمِسْكِ , يَخُوضُونَ فِي جِبَالِ الْكَافُورِ , يَنْظُرُ إِلَيْهِمُ الثَّقَلانِ , مَا يُطْرِقُونَ تَعَجُّبًا، حَتَّى يَدْخُلُوا الْجَنَّةَ , لا يُخَالِطُهُمُ أَحَدٌ إِلا الْمُؤَذِّنُونَ الْمُحْتَسِبُونَ" . هَذَا حَدِيثُ زَكَرِيَّا بْنِ يَحْيَى
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن، دنوں کو ان کی اصلی حالت پر اُٹھائے گا ـ اور جمعہ کا دن جگمگاتا ہوا روشن بناکر اُٹھایا جائے گا۔ جمعہ والے لوگ اسے اس طرح گھیرے ہوں گے جیسے دلہن (عزیز و اقارب کے جھرمٹ میں) دولہا کے سپرد کی جاتی ہے۔ جمعہ اُن کے لئے روشنی کرے گا اور وہ اس کی روشنی میں چل رہے ہوں گے۔ ان کے رنگ برف کی طرح سفید ہوں گے، ان کی خوشبو اور مہک کستوری کی طرح پھیل رہی ہوگی۔ وہ کافور کے پہاڑوں میں داخل ہو رہے ہوں گے - انہیں جنّ اور انسان دیکھ رہے ہوں گے (ان کے بلند مقام و مرتبے پر) تعجب و حیرت کی وجہ سے وہ اپنی نظریں نہیں جھکائیں گے ـ حتّیٰ کہ وہ جنّت میں داخل ہو جائیں گے۔ ان کے ساتھ کوئی اور شخص شریک نہیں ہوگا، صرف اجر و ثواب کی نیت سے اذانیں دینے والے مؤذن ان کے ساتھ شریک ہوں گے۔“ یہ جناب زکریا یحییٰ کی حدیث ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1730]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1730، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1032»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1730 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1730
فوائد:
➊ جمعہ کا دن جیسے دنیا میں دیگر ایام سے افضل ہے، روز قیامت بھی باقی دنوں سے افضل اور پرنور ہوگا۔
➋ جمعہ کا اہتمام کرنے والوں کا روز قیامت اکرام کیا جائے گا اور انہیں انعامات سے نوازا جائے گا۔
➌ جمعہ ادا کرنے والے قیامت کے اندھیرے سے محفوظ رہیں گے اور انہیں قیامت کے دن کا خوف اور غم نہیں ہوگا۔
➍ روز قیامت جمعہ کے حاضرین موج و مستی کریں گے اور اسی خوشی و فرحت کی حالت میں انہیں جنت میں داخل کیا جائے گا۔
➎ طلب ثواب کی نیت سے اذان دینے والے موذن اور جمعہ کا باقاعدہ اہتمام کرنے والے روز قیامت یکساں اجر و ثواب کے حامل ہوں گے۔
➊ جمعہ کا دن جیسے دنیا میں دیگر ایام سے افضل ہے، روز قیامت بھی باقی دنوں سے افضل اور پرنور ہوگا۔
➋ جمعہ کا اہتمام کرنے والوں کا روز قیامت اکرام کیا جائے گا اور انہیں انعامات سے نوازا جائے گا۔
➌ جمعہ ادا کرنے والے قیامت کے اندھیرے سے محفوظ رہیں گے اور انہیں قیامت کے دن کا خوف اور غم نہیں ہوگا۔
➍ روز قیامت جمعہ کے حاضرین موج و مستی کریں گے اور اسی خوشی و فرحت کی حالت میں انہیں جنت میں داخل کیا جائے گا۔
➎ طلب ثواب کی نیت سے اذان دینے والے موذن اور جمعہ کا باقاعدہ اہتمام کرنے والے روز قیامت یکساں اجر و ثواب کے حامل ہوں گے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1730]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1730 in Urdu
طاوس بن كيسان اليماني ← عبد الله بن قيس الأشعري