صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اس بات کی دلیل کا بیان کہ چاند جس رات میں چھوٹا یا بڑا دکھائی دیتا ہے وہ اسی رات کا ہوگا جب تک مہینے کے تیس دن مکمّل نہ ہوجائیں پھر بادل وغیرہ کی وجہ سے نظر نہ آئے (تو تیس دن مکمّل کرنا ہوںگے)
حدیث نمبر: 1915
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، نا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، نا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ ، قَالَ: أَهْلَلْنَا هِلالَ رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ، قَالَ: فَأَرْسَلْنَا رَجُلا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمَدَّهُ لَكُمْ لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ" . وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِمِثْلِهِ
جناب ابوالبختری بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رمضان المبارک کا چاند دیکھا جبکہ ہم ذات عرق مقام پر تھے۔ کہتے ہیں، تو ہم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے بارے میں پوچھنے کے لئے ایک آدمی بھیجا تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ“ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔ ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے دیکھنے کے لئے چاند کو پھیلا دیا ہے۔ پس اگر چاند تم پر بادلوں میں چھپ جائے تو تم تیس کی گنتی مکمّل کرلو۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1915]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1088، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1915، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8033، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2172، 2210، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3079»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1915 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1915
فوائد:
➊ اگر شعبان یا رمضان کے تیس دن مکمل ہونے پر پہلی رات کا چاند عام جسامت سے بڑا نظر آئے تو شکوک و شبہات میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔
➋ کیونکہ بعض اوقات پہلی رات کے چاند کی جسامت عام معمول سے بڑی ہوتی ہے۔
➌ حدیث الباب میں اس سے جنم لینے والے اعتراضات و اشکالات کا مداوا ہو گیا ہے، لہذا مہینے کی تعیین کا عام معمول یہی ہے کہ چاند نظر آنے پر مہینہ مکمل ہو جائے گا، بصورت دیگر تیس دن مکمل کرنا ہوں گے۔
➊ اگر شعبان یا رمضان کے تیس دن مکمل ہونے پر پہلی رات کا چاند عام جسامت سے بڑا نظر آئے تو شکوک و شبہات میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔
➋ کیونکہ بعض اوقات پہلی رات کے چاند کی جسامت عام معمول سے بڑی ہوتی ہے۔
➌ حدیث الباب میں اس سے جنم لینے والے اعتراضات و اشکالات کا مداوا ہو گیا ہے، لہذا مہینے کی تعیین کا عام معمول یہی ہے کہ چاند نظر آنے پر مہینہ مکمل ہو جائے گا، بصورت دیگر تیس دن مکمل کرنا ہوں گے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1915]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1915 in Urdu
أبو داود الطيالسي ← شعبة بن الحجاج العتكي