صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
158. (157) باب الرخصة فى استعانة المتوضئ بمن يصب عليه الماء ليتطهر، خلاف مذهب من يتوهم من أن هذا من الكبر.
وضو کرنے والا، وضو(میں سہولت) کے لیے کسی پانی ڈالنے والے کی مدد لے سکتا ہے صوفیوں کے مذہب کے برعکس جو اسے تکبر سمجھتے ہیں
حدیث نمبر: 203
نا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ ، يَقُولُ:" سَكَبْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تَوَضَّأَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ"
عروہ بن مغیرہ بن شعبہ سےروایت ہےکہ اُنہوں نے اپنے والد محترم کو فرماتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب غزوہ تبوک میں وضو کیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کے اعضائے وضو) پر پانی ڈالا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب المسح على الخفين/حدیث: 203]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 182، 203، 206، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 274، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 50، 190، 191، 203، 1064، 1514، 1515، 1642، 1645، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1326، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 489، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1، 149، 150، 151، والترمذي فى (جامعه) برقم: 20، 98، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 331، 389، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 267، والدارقطني فى (سننه) برقم: 737، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18421»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 203 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 203
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ کسی اور شخص سے وضو کرنے میں مدد لینا جائز و مباح فعل ہے اور اس میں تکبر و نخوت کا عمل دخل نہیں ہے۔
➋ موزوں پر مسح کرنا مسنون و جائز عمل ہے۔
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ کسی اور شخص سے وضو کرنے میں مدد لینا جائز و مباح فعل ہے اور اس میں تکبر و نخوت کا عمل دخل نہیں ہے۔
➋ موزوں پر مسح کرنا مسنون و جائز عمل ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 203]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 203 in Urdu
عروة بن المغيرة الثقفي ← المغيرة بن شعبة الثقفي