صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
157. (156) باب ذكر الدليل على أن مسح النبى صلى الله عليه وسلم على القدمين كان وهو طاهر لا محدث.
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دونوں قدموں پر مسح کرنا طہارت (با وضو ہونے) کی حالت میں تھا۔ بے وضو ہونے کی حالت میں نہ تھا۔
حدیث نمبر: 202
نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا جَرِيرٌ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، كِلاهُمَا، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلَكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي النَّزَّالُ بْنُ سَبْرَةَ ، قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ عَلِيٍّ الظُّهْرَ، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الرَّحْبَةِ، قَالَ: " فَدَعَا بِإِنَاءٍ فِيهِ شَرَابٌ فَأَخَذَهُ فَمَضْمَضَ، قَالَ مَنْصُورٌ: أَرَاهُ قَالَ: وَاسْتَنْشَقَ، وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ، وَرَأْسَهُ، وَقَدَمَيْهِ، ثُمَّ شَرِبَ فَضْلَهُ وَهُوَ قَائِمٌ"، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ نَاسًا يَكْرَهُونَ أَنْ يَشْرَبُوا وَهُمْ قِيَامٌ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُ" ، وَقَالَ:" هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ"، هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ زَائِدَةَ
حضرت نزال بن سبرہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی، پھر ہم (مسجد کے) صحن کی طرف چلے گئے، کہتے ہیں کہ اُنہوں نے پانی کا برتن منگوایا، اُنہوں نے وہ پانی لیا اور کُلّی کی، منصور کہتے ہیں کہ میرے خیال میں اُنہوں نے یہ کہا کہ اُنہوں نے ناک میں پانی ڈالا اور اپنے چہرے، دونوں بازؤوں، اپنے سر اور اپنے دونوں قدموں کا مسح کیا، پھر اپنا باقی ماندہ پانی پی لیا جبکہ آپ کھڑے تھے، پھر فرمایا کہ کچھ لوگ کھڑے ہو کر پینےکو ناپسند کرتے ہیں، بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا جیسے میں نے کیا ہے۔ اور فرمایا کہ یہ اُس شخص کا وضو ہے جس کا وضو ٹوٹا نہ ہو۔ یہ زائدہ کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب المسح على الخفين/حدیث: 202]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5615، 5616، وابن الجارود فى "المنتقى"، 75، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 16، 147، 202، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1056، وأبو داود فى (سننه) برقم: 111، والترمذي فى (جامعه) برقم: 44، 48، 49، والدارقطني فى (سننه) برقم: 298، وأحمد فى (مسنده) برقم: 593، 888»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 202 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 202
فوائد:
جوتوں پر مسح کی مذکورہ کیفیت نفلی وضو کی صورت میں جائز ہے۔
نفلی وضو کا طریقہ یہ ہے کہ انسان باوضو ہو اور وضو کی حالت میں دوسری نماز کا وقت ہو جائے تو اس کے لیے نیا وضو کرنا ضروری نہیں، وہ اسی وضو سے نماز پڑھ سکتا ہے۔
اس کے لیے نیا وضو کرنا بھی جائز ہے اور وہ نفلی وضو (یعنی تمام اعضاء پر مسح بھی کر سکتا ہے)۔
اور اس نفلی وضو کے سوا کسی بھی صورت میں فقط جوتوں پر مسح ثابت نہیں ہے۔
جوتوں پر مسح کی مذکورہ کیفیت نفلی وضو کی صورت میں جائز ہے۔
نفلی وضو کا طریقہ یہ ہے کہ انسان باوضو ہو اور وضو کی حالت میں دوسری نماز کا وقت ہو جائے تو اس کے لیے نیا وضو کرنا ضروری نہیں، وہ اسی وضو سے نماز پڑھ سکتا ہے۔
اس کے لیے نیا وضو کرنا بھی جائز ہے اور وہ نفلی وضو (یعنی تمام اعضاء پر مسح بھی کر سکتا ہے)۔
اور اس نفلی وضو کے سوا کسی بھی صورت میں فقط جوتوں پر مسح ثابت نہیں ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 202]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 202 in Urdu
النزال بن سبرة الهلالي ← علي بن أبي طالب الهاشمي