صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اگر روزہ رکھ کر اپنی خدمت کرنے سے بھی عاجز آجائے تو سفر میں روزہ نہ رکھنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 2031
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْحَدَّادِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ , فَأُتِيَ بِطَعَامٍ , فَقَالَ لأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ:" ادْنُوَا فَكُلا" , فَقَالا: إِنَّا صَائِمَانِ. فَقَالَ:" اعْمَلُوا لِصَاحِبَيْكُمُ , ارْحَلُوا لِصَاحِبَيْكُمُ , ادْنُوَا فَكُلا" . قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ: حَدَّثَنِي سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَبَرُ أَيْضًا مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي ذَكَرْتُ قَبْلُ أَنَّ لِلصَّائِمِ فِي السَّفَرِ الْفِطْرَ بَعْدَ مُضِيِّ بَعْضِ النَّهَارِ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَهُمَا بِالأَكْلِ بَعْدَ مَا أَعْلَمَاهُ أَنَّهُمَا صَائِمَانِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مرالظهران مقام پر آپ کے ساتھ تھے تو کھانا لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: ”قریب ہوجاؤ اور کھانا کھاؤ“ تو اُنہوں نے عرض کیا ہم روزے دار ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے ساتھیوں کے ضروری کام کردو اور اُن کی سواریاں تیار کردو۔ تم دونوں قریب ہو جاؤ اور کھانا کھالو۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ روایت بھی اس قسم سے ہے جو میں پہلے بیان کرچکا ہوں کہ روزے دار کے لئے سفر میں دن کا کچھ حصّہ گزرنے کے بعد روزہ کھولنا جائز ہے۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کھانے کا حُکم دیا ہے جبکہ انہوں نے بتایا تھا کہ وہ روزے دار ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2031]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2031، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3557، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1588، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2263، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2584، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8273، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8552، والبزار فى (مسنده) برقم: 8598، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 9066»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2031 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2031
فوائد:
➊ سفر میں روزہ رکھنے والا اگر اپنی خدمت اور ذاتی افعال سر انجام دینے سے قاصر ہو اور وہ دوسرے لوگوں کے لیے مشقت کا باعث بنے تو اسے روزہ ترک کر دینا چاہیے۔ روزہ توڑنا اس کے لیے بہتر ہے۔
➋ جو لوگ مشقت کے باوجود سفر میں روزہ رکھنے پر مصر رہیں، انہیں روزہ چھوڑنے کی تلقین کرنی چاہیے اور روزہ داروں کو اپنی ضد ترک کر دینی چاہیے۔
➊ سفر میں روزہ رکھنے والا اگر اپنی خدمت اور ذاتی افعال سر انجام دینے سے قاصر ہو اور وہ دوسرے لوگوں کے لیے مشقت کا باعث بنے تو اسے روزہ ترک کر دینا چاہیے۔ روزہ توڑنا اس کے لیے بہتر ہے۔
➋ جو لوگ مشقت کے باوجود سفر میں روزہ رکھنے پر مصر رہیں، انہیں روزہ چھوڑنے کی تلقین کرنی چاہیے اور روزہ داروں کو اپنی ضد ترک کر دینی چاہیے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2031]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2031 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي