صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
طاقت و قوت رکھنے والے شخص کے لئے سفر میں روزہ رکھنا مستحب ہے اور جو کمزور اور ضعیف ہو اُس کے لئے روزہ چھوڑنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 2030
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ . ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ أَيْضًا , حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ نُوحٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَهُوَ الْجُرَيْرِيُّ , عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ , فَمِنَّا الصَّائِمُ، وَمِنَّا الْمُفْطِرُ , فَلَمْ يَعِبِ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ , وَلا الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ" . وَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ مَنْ وَجَدَ قُوَّةً فَصَامَ أَنَّ ذَلِكَ حَسَنٌ جَمِيلٌ , وَمَنْ وَجَدَ ضَعْفًا فَأَفْطَرَ فَذَلِكَ حَسَنٌ جَمِيلٌ. هَذَا حَدِيثُ الثَّقَفِيِّ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ: فِي رَمَضَانَ. وَلَمْ يَقُلْ سَالِمُ بْنُ نُوحٍ: جَمِيلٌ، وَقَالَ: يَرَوْنَ. وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ: كُنَّا نَغْدُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَلَمْ يَقُلْ: فِي رَمَضَانَ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رمضان المبارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا، تو ہم سے کچھ روزے دار تھے اور کچھ نے روزہ نہیں رکھا تھا۔ تو نہ روزہ چھوڑنے والے نے روزے دار پر اعتراض کیا اور نہ روزے دار نے بے روزہ پر عیب لگایا۔ اور صحابہ کرام کا موقف یہ تھا کہ جو شخص قوت وطاقت رکھتا ہو وہ روزہ رکھ لے تو یہ بہت ہی اچھا ہے۔ اور جو شخص کمزوری محسوس کرے تو وہ روزہ نہ رکھے تو یہ (اس کے حق میں) بہت اچھا ہے۔ یہ جناب ثقفی کی روایت ہے، لیکن انہوں نے ”فی رمضان“ (رمضان میں) کے الفاظ بیان نہیں کیے اور جناب سالم بن نوح کی روایت میں”جميل“ کا لفظ نہیں ہے اور”يرون“ کا لفظ روایت کیا ہے۔ اور جناب ابن علیہ کی روایت میں ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا کرتے تھے۔ ”فی رمضان“ (رمضان میں) کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2030]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1116، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2029، 2030، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3558، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2308، والترمذي فى (جامعه) برقم: 712، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8261، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11242»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2030 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2030
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ حالتِ سفر میں روزہ رکھنا اور ترک کرنا دونوں صورتیں جائز ہیں۔ پھر جنہیں سفر میں روزہ رکھنے سے سخت تکلیف ہو اور مشکل جھیلنا پڑے تو ایسے لوگوں کے حق میں روزہ نہ رکھنا بہتر ہے۔ اور جو لوگ سفر میں آسانی سے روزہ رکھ سکیں، ان کے لیے روزہ رکھنا بہتر ہے۔
➋ ◈ نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: جمہور علماء اور جمیع اہل فتویٰ کا بیان ہے کہ سفر میں روزہ رکھنا جائز ہے۔ سفر میں روزہ منعقد ہوتا ہے اور صاحبِ روزہ ثواب کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ پھر علماء کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ سفر میں روزہ رکھنا افضل ہے یا روزہ توڑنا؟ چنانچہ مالک، ابوحنیفہ، شافعی اور اکثر علماء کا مذہب ہے کہ جو شخص سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہے اور اسے مشقت و تنگی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، ایسے شخص کے لیے روزہ رکھنا افضل ہے۔ اور اگر سفر میں روزہ سے مشقت اٹھانا پڑے تو روزہ چھوڑنا افضل ہے اور یہی مذہب راجح اور اقرب الی الصواب ہے۔ [شرح النووي: 229/7]
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ حالتِ سفر میں روزہ رکھنا اور ترک کرنا دونوں صورتیں جائز ہیں۔ پھر جنہیں سفر میں روزہ رکھنے سے سخت تکلیف ہو اور مشکل جھیلنا پڑے تو ایسے لوگوں کے حق میں روزہ نہ رکھنا بہتر ہے۔ اور جو لوگ سفر میں آسانی سے روزہ رکھ سکیں، ان کے لیے روزہ رکھنا بہتر ہے۔
➋ ◈ نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: جمہور علماء اور جمیع اہل فتویٰ کا بیان ہے کہ سفر میں روزہ رکھنا جائز ہے۔ سفر میں روزہ منعقد ہوتا ہے اور صاحبِ روزہ ثواب کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ پھر علماء کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ سفر میں روزہ رکھنا افضل ہے یا روزہ توڑنا؟ چنانچہ مالک، ابوحنیفہ، شافعی اور اکثر علماء کا مذہب ہے کہ جو شخص سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہے اور اسے مشقت و تنگی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، ایسے شخص کے لیے روزہ رکھنا افضل ہے۔ اور اگر سفر میں روزہ سے مشقت اٹھانا پڑے تو روزہ چھوڑنا افضل ہے اور یہی مذہب راجح اور اقرب الی الصواب ہے۔ [شرح النووي: 229/7]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2030]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2030 in Urdu
المنذر بن مالك العوفي ← أبو سعيد الخدري