صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اس بات کی دلیل کا بیان کہ حائضہ عورت طہارت کے دنوں میں روزے کی قضا دے گی اور حیض کے دنوں میں ساقط ہونے والے فرض روزے کی قضا آئندہ شعبان تک دینے کی اسے رخصت ہے
حدیث نمبر: 2048
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: " قَدْ كَانَ عَلَيَّ شَيْءٌ مِنْ رَمَضَانَ , ثُمَّ لا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَصُومَهُ حَتَّى يَجِيءَ شَعْبَانُ" . وَظَنَنْتُ أَنَّ ذَلِكَ لِمَكَانِهَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. يَحْيَى يَقُولُهُ قَالَ: وَكَانَ يَسْتَنْظِرُهُ مَا لَمْ يُدْرِكْهُ رَمَضَانُ آخَرُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے ذمہ رمضان المبارک کے کچھ روزوں کی قضا واجب ہوتی پھر شعبان کا مہینہ آنے تک میں روزے نہ رکھ سکتی۔ جناب یحییٰ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مشغولیت کی بنا پر (آئندہ شعبان تک) روزے نہ رکھ سکتی تھیں۔ جناب یحییٰ کہتے ہیں کہ آپ ان سے آئند ہرمضان آنے تک مہلت طلب کرتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2048]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1950، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1146، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1094، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2046، 2047، 2048، 2049، 2050، 2051، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2177، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2640، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2399، والترمذي فى (جامعه) برقم: 783، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1669، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8307، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25568»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2048 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق