صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
ماہ شعبان کے روزے رمضان المبارک کے روزوں کے ساتھ ملانا جائز ہے
حدیث نمبر: 2079
حَدَّثَنَا الصَّنْعَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى , حَدَّثَنَا خَالِدٌ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ يَحْيَى , وَذَكَرَ أَبَا سَلَمَةَ , أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ , وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى , حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَنْبَرٍ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ عَائِشَةَ بِمِثْلِهِ. وَزَادَ قَالَ: وَكَانَ يَقُولُ:" خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ , فَإِنَّ اللَّهَ لا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا" , وَكَانَ أَحَبَّ الصَّلاةِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهَا مِنْهَا وَإِنْ قَلَّتْ، وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلاةً أَثْبَتَهَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مذکورہ بالا کی مثل مروی ہے۔ اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اتنا عمل کرو جتنی تم طاقت رکھتے ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ (اجر و ثواب دیتے ہوئے) نہیں تھکتا حتّیٰ کہ تم ہی (عمل کرکے) تھک جاتے ہو“ اور آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب (نفلی) نماز وہ تھی جس پر ہمیشگی کی جاتی، اگرچہ وہ تھوڑی سی ہو اور آپ کا عمل مبارک یہ تھا کہ آپ جب کوئی نماز پڑھتے تو اُسے ہمیشہ ادا کرتے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2079]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 20، 43، 1151، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 785، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1282، 2079، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 359، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1641، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1309، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4238، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4812، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2482»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2079 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2079
فوائد:
➊ شعبان کے تمام مہینے کے روزے رکھنے سے مقصود شعبان کے اکثر روزے رکھنا ہے، کیونکہ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بھر رمضان کے سوا کسی بھی مہینے کے کامل روزے نہیں رکھے۔
➋ جو شعبان کے اکثر روزے رکھے اور معمول کے مطابق رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے رکھ لیے، یہ عمل ممنوع نہیں، بلکہ قصداً شعبان کے روزے رمضان سے ملانا ممنوع ہے۔
➌ رمضان اور محرم کے روزوں کی فضیلت کے بعد باقی مہینوں کی نسبت شعبان کے نفلی روزوں کا اجر و ثواب زیادہ ہے۔
➊ شعبان کے تمام مہینے کے روزے رکھنے سے مقصود شعبان کے اکثر روزے رکھنا ہے، کیونکہ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بھر رمضان کے سوا کسی بھی مہینے کے کامل روزے نہیں رکھے۔
➋ جو شعبان کے اکثر روزے رکھے اور معمول کے مطابق رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے رکھ لیے، یہ عمل ممنوع نہیں، بلکہ قصداً شعبان کے روزے رمضان سے ملانا ممنوع ہے۔
➌ رمضان اور محرم کے روزوں کی فضیلت کے بعد باقی مہینوں کی نسبت شعبان کے نفلی روزوں کا اجر و ثواب زیادہ ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2079]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2079 in Urdu
يحيى بن أبي كثير الطائي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري