🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عاشوراء کے روزے کی ابتداء کرنا اور عاشوراء کا روزہ رکھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2080
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ هِشَامٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ:" كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ , وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ , فَلَمَّا قَدِمَ يَعْنِي الْمَدِينَةَ صَامَهُ , وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ , فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ، فَكَانَ رَمَضَانُ هُوَ الْفَرِيضَةَ وَتَرَكَ عَاشُورَاءَ , فَكَانَ مَنْ شَاءَ صَامَهُ , وَمَنْ شَاءَ لَمْ يَصُمْهُ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ عاشوراء کے دن قریش زمانہ جاہلیت میں روزہ رکھا کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس دن کا روزہ رکھتے تھے۔ پھر جب آپ مدینہ منوّرہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھا اور صحابہ کو بھی روزہ رکھنے کا حُکم دیا۔ پھر جب رمضان المبارک کے روزے فرض ہو گئے تو پھر فرض روزے رمضان المبارک ہی کے ہوتے تھے اور عاشوراء کا روزہ چھوڑ دیا گیا۔ لہٰذا جو شخص چاہتا اس دن کا روزہ رکھ لیتا اور جو چاہتا نہ رکھتا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2080]
تخریج الحدیث: صحيح بخاري

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ