صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
عاشوراء کا روزہ رکھنے اور نہ رکھنے میں اختیار کا بیان، اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ عاشوراء کے دن کے روزے کا حُکم استحباب، راہنمائی اور فضیلت کے لئے ہے
حدیث نمبر: 2094
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو عَاصِمٍ , أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا سَالِمٌ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْيَوْمُ عَاشُورَاءُ , فَمَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْهُ , وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِرْ" . خَبَرُ عَائِشَةَ، وَمُعَاوِيَةَ مِنْ هَذَا الْبَابِ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج عاشوراء کا دن ہے تو جو شخص چاہے وہ اس دن کا روزہ رکھ لے اور جو شخص چاہے وہ روزہ نہ رکھے۔“ سیدہ عائشہ اور معاویہ رضی اللہ عنہما کی روایات اسی مسئلہ کے متعلق ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2094]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1892، 2000، 4501، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1126، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2082، 2094، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3622، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2443، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1803، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1737، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8501، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4569»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2094 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2094
فوائد:
اس حدیث سے یہ استدلال کرنا کہ عاشوراء کا روزہ رمضان کی فرضیت سے قبل مستحب تھا، فرض نہیں تھا، درست نہیں، کیونکہ عاشوراء کے روزے میں اختیار فرضیتِ رمضان کے بعد دیا گیا ہے۔
اس حدیث سے یہ استدلال کرنا کہ عاشوراء کا روزہ رمضان کی فرضیت سے قبل مستحب تھا، فرض نہیں تھا، درست نہیں، کیونکہ عاشوراء کے روزے میں اختیار فرضیتِ رمضان کے بعد دیا گیا ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2094]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2094 in Urdu
سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي