علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
عاشوراء کا روزہ رکھنے اور نہ رکھنے میں اختیار کا بیان، اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ عاشوراء کے دن کے روزے کا حُکم استحباب، راہنمائی اور فضیلت کے لئے ہے
حدیث نمبر: 2094
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو عَاصِمٍ , أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا سَالِمٌ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْيَوْمُ عَاشُورَاءُ , فَمَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْهُ , وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِرْ" . خَبَرُ عَائِشَةَ، وَمُعَاوِيَةَ مِنْ هَذَا الْبَابِ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج عاشوراء کا دن ہے تو جو شخص چاہے وہ اس دن کا روزہ رکھ لے اور جو شخص چاہے وہ روزہ نہ رکھے۔“ سیدہ عائشہ اور معاویہ رضی اللہ عنہما کی روایات اسی مسئلہ کے متعلق ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2094]
تخریج الحدیث: صحيح بخاري
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2094 in Urdu
سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي