علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
ایک مجمل غیر مفسر روایت جس کے الفاظ عام ہیں اور مراد خاص ہے، اس کے ذکر کے ساتھ اکیلے ہفتے کے دن کا نفل روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 2163
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، عَنْ أُخْتِهِ وَهِيَ الصَّمَّاءُ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ، إِلا فِيمَا افْتُرِضَ عَلَيْكُمْ، وَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلا عُودَ عِنَبَةٍ، أَوْ لِحَاءَ شَجَرَةٍ فَلْيَمْضُغْهَا"
جناب عبداللہ بن بسر اپنی بہن صماء سے روایت کرتے ہیں کہ اُس نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف ہفتے کے دن کا روزہ نہ رکھو سوائے اس ہفتے کے جو تم پر فرض روزوں میں آجائے اور اگر تم میں سے کسی شخص کو صرف انگور کی ٹہنی یا کسی درخت کی چھال ہی ملے تو وہ اُسے چبالے (اور روزہ کھول دے)۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2163]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2163، 2164، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3615، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1597، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2421، والترمذي فى (جامعه) برقم: 744، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1790، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1726، 1726 م، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8585، 8586، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17962»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2163 in Urdu
عبد الله بن بسر النصري ← نهيمه بنت بسر المازنية