🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

ایک مجمل غیر مفسر روایت جس کے الفاظ عام ہیں اور مراد خاص ہے، اس کے ذکر کے ساتھ اکیلے ہفتے کے دن کا نفل روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2163
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، عَنْ أُخْتِهِ وَهِيَ الصَّمَّاءُ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ، إِلا فِيمَا افْتُرِضَ عَلَيْكُمْ، وَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلا عُودَ عِنَبَةٍ، أَوْ لِحَاءَ شَجَرَةٍ فَلْيَمْضُغْهَا"
جناب عبداللہ بن بسر اپنی بہن صماء سے روایت کرتے ہیں کہ اُس نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صرف ہفتے کے دن کا روزہ نہ رکھو سوائے اس ہفتے کے جو تم پر فرض روزوں میں آجائے اور اگر تم میں سے کسی شخص کو صرف انگور کی ٹہنی یا کسی درخت کی چھال ہی ملے تو وہ اُسے چبالے (اور روزہ کھول دے)۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2163]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2163، 2164، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3615، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1597، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2421، والترمذي فى (جامعه) برقم: 744، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1790، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1726، 1726 م، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8585، 8586، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17962»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2164
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمَّتِهِ الصَّمَّاءِ أُخْتِ بُسْرٍ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ السَّبْتِ، وَيَقُولُ:" إِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلا عُودًا أَخْضَرَ فَلْيُفْطِرْ عَلَيْهِ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَالَفَ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ثَوْرَ بْنَ يَزِيدَ فِي هَذَا الإِسْنَادِ، فَقَالَ ثَوْرٌ: عَنْ أُخْتِهِ، يُرِيدُ أُخْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، قَالَ مُعَاوِيَةُ: عَنْ عَمَّتِهِ الصَّمَّاءِ أُخْتِ بُسْرٍ، عَمَّةِ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، لا أُخْتَ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ
حضرت صماء بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہفتے کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم میں سے کسی شخص کو صرف سبز ٹہنی ہی ملے تو وہ اسی سے روزہ کھول لے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ جناب معاویہ بن صالح نے اس سند میں ثوربن یزید کی مخالفت کی ہے۔ ثور نے روایت کرتے ہوئے صما ء کو حضرت عبداللہ بن بسر کی بہن قرار دیا ہے۔ جبکہ جناب معاویہ نے حضرت صماء کو بسر کی بہن اور حضرت عبداللہ کی پھوپھی قرار دیا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2164]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2163، 2164، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3615، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1597، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2421، والترمذي فى (جامعه) برقم: 744، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1790، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1726، 1726 م، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8585، 8586، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17962»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں