صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اس بات کی دلیل کا بیان کہ کسی سال شب قدر ستائیسویں رات بھی ہوتی ہے کیونکہ شب قدر آخری عشرے کی طاق راتوں میں منتقل ہوتی رہتی ہے جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے
حدیث نمبر: 2188
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدَةَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي لُبَابَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ ، عَنْ أُبَيٍّ ، قَالَ:" لَيْلَةُ الْقَدْرِ، إِنِّي لأَعْلَمُهَا هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيَ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ"
سیدنا ابی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ شب قدر کو میں بخوبی جانتا ہوں۔ یہ وہی رات ہے جس کا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حُکم دیا تھا۔ وہ ستائیسویں رات ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2188]
تخریج الحدیث: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
زر بن حبيش الأسدي ← أبي بن كعب الأنصاري