صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1574. (19) باب ذكر الدليل على أن الصدقة إنما تجب فى الإبل والغنم فى سوائمها دون غيرهما، ضد قول من زعم أن فى الإبل العوامل صدقة.
اس بات کی دلیل کا بیان کہ چرنے والے اونٹ اور بکریوں میں زکوٰۃ واجب ہے ان کے علاوہ دوسروں میں واجب نہیں اور اس میں لوگوں کی نفی ہے جو کہتے ہیں کام کاج اور بوجھ اُٹھانے والے اونٹوں پر زکوٰۃ ہے
حدیث نمبر: 2266
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي . ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" فِي كُلِّ إِبِلٍ سَائِمَةٍ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ، لا يُفَرَّقُ إِبِلٌ مِنْ حِسَابِهَا، مَنْ أَعْطَاهَا مُؤْتَجِرًا فَلَهُ أَجْرُهَا، وَمَنْ مَنَعَهَا، فَإِنَّا آخِذُوهَا وَشَطْرَ إِبِلِهِ عَزْمَةٌ مِنْ عَزَمَاتِ رَبِّنَا، لا يَحِلُّ لآلِ مُحَمَّدٍ مِنْهَا شَيْءٌ" ، قَالَ الصَّنْعَانِيُّ: مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ، وَقَالَ بُنْدَارٌ: وَمَنْ أَبَى فَأَنَا آخِذُهَا وَشَطْرَ مَالِهِ، وَقَالَ: لا يُفَرَّقُ إِبِلٌ مِنْ حِسَابِهَا
سیدنا بہز بن حکیم عن ابیہ عن جدہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”باہر چرنے والے اونٹوں میں ہر چالیس اونٹوں میں ایک دو سالہ اونٹنی زکوٰۃ ہے۔ حساب سے اونٹ الگ نہ کیے جائیں۔ جس شخص نے اجر و ثواب کی نیت سے زکوٰۃ ادا کی تو اسے اس کا اجر ملے گا اور جس شخص نے زکوٰۃ روک لی تو ہم اُس سے (زبردستی) وصول کرلیںگے اور اس کے آدھے اونٹ بھی (بطور سزا) لے لیںگے۔ یہ ہمارے رب کے فرائض میں سے ایک فرض ہے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی آل کے لئے اس میں سے کچھ حلال نہیں۔“ صنعانی کہتے ہیں ہر چالیس میں ایک دو سالہ اونٹنی ہے۔ اور جناب بندار کی روایت میں ہے ”اور جس شخص نے انکار کیا تو میں اس سے (زبردستی) زکوٰۃ وصول کروںگا اور آدھا مال بھی (بطور جرمانہ) لے لوںگا اور فرمایا: ”اونٹوں کو حساب سے الگ نہ کیا جائے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة المواشي من الإبل والبقر والغنم/حدیث: 2266]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 376، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2266، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1452، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2443، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1575، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1719، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7423، 7484، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20335»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2266 in Urdu
حكيم بن معاوية البهزي ← معاوية بن حيدة القشيري