صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1579. (24) بَابُ إِبَاحَةِ دُعَاءِ الْإِمَامِ عَلَى مُخْرِجِ مُسِنِّ مَاشِيَتِهِ فِي الصَّدَقَةِ بِأَنْ لَا يُبَارَكَ لَهُ فِي مَاشِيَتِهِ وَدُعَائِهِ لِمُخْرِجِ أَفْضَلِ مَاشِيَتِهِ فِي الصَّدَقَةِ بِأَنْ يُبَارَكَ لَهُ فِي مَالِهِ.
جو شخص زکوٰۃ میں بوڑھا اور کمزور جانور ادا کرے، امام کے لئے جائز ہے کہ اس کے حق میں بے برکتی کی دعا کر دے اور جو شخص زکوٰۃ میں عمدہ جانور پیش کرے، اس کے حق میں برکت کی دعا کر دے کہ اللہ اس کے مال میں برکت عطا فرمائے
حدیث نمبر: 2274
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ بَعَثَ إِلَى رَجُلٍ فَبَعَثَ إِلَيْهِ بِفَصِيلٍ مَخْلُولٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جَاءَ مُصَدِّقُ اللَّهِ، وَمُصَدِّقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ بِفَصِيلٍ مَخْلُولٍ اللَّهُمَّ لا تُبَارِكْ فِيهِ، وَلا فِي إِبِلِهِ"، فَبَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ بِنَاقَةٍ مِنْ حُسْنِهَا وَجَمَالِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهِ وَفِي إِبِلِهِ" ، وَقَالَ أَبُو مُوسَى: ذَهَبَ مُصَدِّقُ اللَّهِ، وَمُصَدِّقُ رَسُولِهِ إِلَى فُلانٍ فَجَاءَ بِفَصِيلٍ مَخْلُولٍ
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے پاس زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے اپنا نمائندہ بھیجا تو اُس شخص نے آپ کے پاس ایک کمزور لاغر بچّہ بھیجا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اس شخص کے پاس) اللہ اور اس کے رسول کا زکوٰۃ وصول کنندہ آیا تو اس نے اونٹ کا یہ لاغر بچّہ بھیجا ہے۔ اے اللہ، تو اسے اور اس کے اونٹوں میں برکت نہ عطا فرما۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان اور دعا اس شخص کو معلوم ہوئی تو اُس نے آپ کی خدمت میں ایک خوبصورت اور عمدہ اونٹنی بھیجی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: ”اے اللہ اس شخص میں اور اس کے اونٹوں میں برکت عطا فرما۔“ اور جناب ابوموسیٰ کی روایت میں ہے کہ ”اللہ اور اس کے رسول کا تحصیل دار فلاں شخص کے پاس گیا تو ایک لاغر و کمزور بچّہ (زکوٰۃ) لایا۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة المواشي من الإبل والبقر والغنم/حدیث: 2274]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2274، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1459، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2457، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2250، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7752، والطبراني فى(الكبير) برقم: 100»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2274 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2274
فوائد:
➊ زکاۃ میں بوڑھا اور معیوب جانور لینا درست نہیں۔ لیکن اگر مالک کی چالاکی و عیاری کی وجہ سے زکاۃ میں ایسا جانور داخل کر دیا جائے، جو بوڑھا یا معیوب ہو تو زکاۃ لینے والا ایسے شخص کے لیے بددعا کر سکتا ہے اور اس کے مال و اسباب میں بے برکتی کی بددعا کرنا جائز ہے۔
➋ جو شخص زکاۃ کے نصاب کے مطابق زکاۃ دے یا اپنی طرف سے بہتر جانور زکاۃ میں دے، اس کے لیے خیر و برکت کی دعا کی جائے گی۔
➊ زکاۃ میں بوڑھا اور معیوب جانور لینا درست نہیں۔ لیکن اگر مالک کی چالاکی و عیاری کی وجہ سے زکاۃ میں ایسا جانور داخل کر دیا جائے، جو بوڑھا یا معیوب ہو تو زکاۃ لینے والا ایسے شخص کے لیے بددعا کر سکتا ہے اور اس کے مال و اسباب میں بے برکتی کی بددعا کرنا جائز ہے۔
➋ جو شخص زکاۃ کے نصاب کے مطابق زکاۃ دے یا اپنی طرف سے بہتر جانور زکاۃ میں دے، اس کے لیے خیر و برکت کی دعا کی جائے گی۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2274]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2274 in Urdu
كليب بن شهاب الجرمي ← وائل بن حجر الحضرمي