🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1626. ‏(‏71‏)‏ باب صلاة الإمام على المأخوذ منه الصدقة اتباعا لأمر الله- عز وجل- بنبيه صلى الله عليه وسلم
جس شخص سے زکوٰۃ وصول کی جائے اس کے حق میں امام کو دعا کرنی چاہیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو جو حُکم دیا ہے اس کی پیروی کرتے ہوئے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: «‏‏‏‏خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ۖ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ ۗ» ‏‏‏‏ [ سورة التوبة: ۱۰۳ ] ”(اے نبی) ان کے مالوں میں سے صدقہ لیجیئے (تاکہ) اس کے ذریعے سے انہیں پاک کریں اور ان کا تزکیہ کریں اور ان کے لئے دعا کیجیئے، بیشک آپ کی دعا ان کی لئے سکون کا باعث ہے۔“
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2345
فِي قَوْلِهِ‏:‏ ‏ [‏خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ‏] ‏ ‏ [‏التَّوْبَةِ‏:‏ 103‏]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2345
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَنْبَأَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوَفِي ، يَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَصَدَّقَ إِلَيْهِ أَهْلُ بَيْتٍ بِصَدَقَةٍ صَلَّى عَلَيْهِمْ"، فَتَصَدَّقَ أَبِي بِصَدَقَةٍ إِلَيْهِ، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفي"
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب کوئی گھر والا اپنی زکوٰۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتا تو آپ اُن کے لئے دعائے خیر فرماتے۔ میرے والد گرامی نے آپ کو زکوٰۃ ادا کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: اے اللہ، ابی اوفی کے گھر والوں پر رحمت فرما۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر السعاية على الصدقة/حدیث: 2345]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1497، 4166، 6332، 6359، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1078، وابن الجارود فى "المنتقى"، 398، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2345، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 917، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2458، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1590، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1796، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2918، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19417»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي، أبو محمد، أبو إبراهيم، أبو معاويةصحابي
👤←👥عمرو بن مرة المرادي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعمرو بن مرة المرادي ← عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عمرو بن مرة المرادي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥أبو داود الطيالسي، أبو داود
Newأبو داود الطيالسي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة حافظ غلط في أحاديث
👤←👥يحيى بن حكيم المقوم، أبو سعيد
Newيحيى بن حكيم المقوم ← أبو داود الطيالسي
ثقة حافظ مصنف
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← يحيى بن حكيم المقوم
ثقة حافظ
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2345 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2345
فوائد:
➊ زکوٰۃ اور صدقہ دینے والے کے لیے رحمت و برکت کی دعا کرنا مستحب عمل ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ عمل اس حکم کی تعمیل میں کرتے تھے۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلَوَتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴾ ان کے مالوں سے تو انہیں پاک کرے گا اور انہیں صاف کرے گا اور ان کے لیے دعا کر، بے شک تیری دعا ان کے لیے باعث سکون ہے۔ اور اللہ سب کچھ سننے والا، بہت جاننے والا ہے۔ [سورة التوبة: 103]
➋ ◈ امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ شافعیہ اور جمیع علماء کا موقف ہے کہ زکوٰۃ ادا کرنے والے کے لیے دعائے خیر کرنا مستحب ہے، واجب نہیں۔ [شرح النووي: 7/185]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2345]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2345 in Urdu