الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1661. (106) باب استحباب الاستعفاف عن أكل الصدقة لمن يجد عنها غنى. يعني من المعاني، وإن كان من أهلها إذ هي غسالة ذنوب الناس
جو شخص زکوٰۃ کا مال کھانے سے بچ سکتا ہو تو اس کا بچنا مستحب ہے اگرچہ وہ زکوٰۃ کا مستحق بھی ہو کیونکہ زکوٰۃ لوگوں کے گناہوں کی میل ہے
حدیث نمبر: 2390
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قُلْتُ لِلْعَبَّاسِ: سَلِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَسْتَعْمِلُكَ عَلَى الصَّدَقَةِ، قَالَ: " مَا كُنْتُ لأَسْتَعْمِلُكَ عَلَى غُسَالَةِ ذُنُوبِ النَّاسِ"
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کریں کہ وہ آپ کو زکوٰۃ کا تحصیلدار مقرر فرما دیں۔ (ان کے گزارش کرنے پر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں لوگوں کے گناہوں کی میل پر عامل مقرر نہیں کروںگا۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها/حدیث: 2390]
تخریج الحدیث: اسناده ضعيف
الرواة الحديث:
عبد الله بن شداد الليثي ← علي بن أبي طالب الهاشمي