صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
187. (186) باب إباحة الاغتسال من القصاع، والمراكن، والطاس
بڑے پیالوں، ٹبوں اور تھالوں سے غسل کرنا جائز ہے
حدیث نمبر: 240
نا بُنْدَارٌ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ الْمَخْزُومِيُّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اغْتَسَلَ هُوَ وَمَيْمُونَةُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، فِي قَصْعَةٍ فِيهَا أَثَرُ الْعَجِينِ"
سیدہ اُم ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے ایک ہی برتن بڑے پیالے سے غسل کیا، اس میں گُندھے ہوئے آٹے کا اثر تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب غسل الجنابة/حدیث: 240]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 240، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1245، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 240، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 237، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 378، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27537، والطبراني فى(الكبير) برقم: 1051»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥فاختة بنت أبي طالب الهاشمية، أم هانئ | صحابية | |
👤←👥مجاهد بن جبر القرشي، أبو محمد، أبو الحجاج مجاهد بن جبر القرشي ← فاختة بنت أبي طالب الهاشمية | ثقة إمام في التفسير والعلم | |
👤←👥عبد الله بن أبي نجيح الثقفي، أبو يسار عبد الله بن أبي نجيح الثقفي ← مجاهد بن جبر القرشي | ثقة | |
👤←👥إبراهيم بن نافع المخزومي، أبو إسحاق إبراهيم بن نافع المخزومي ← عبد الله بن أبي نجيح الثقفي | ثقة حافظ | |
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد عبد الرحمن بن مهدي العنبري ← إبراهيم بن نافع المخزومي | ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري | ثقة حافظ |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 240 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 240
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ غسل اور وضو کے لیے لکڑی، پیتل وغیرہ اور ہر وہ برتن استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
بشرطیکہ وہ سونے چاندی سے تیار نہ کیے گئے ہوں۔
➋ ایک برتن سے زن و شو کا ایک ساتھ غسل کرنا جائز ہے اور اس سے پانی کی طہارت اور پاکی کی صلاحیت متاثر نہیں ہوتی۔
➌ برتن میں آٹے اور طاہر چیز کے نشان اور معمولی ملاوٹ سے پانی طاہر و مطہر رہتا ہے اور طاہر چیز کے پانی میں واقع ہونے سے پانی کی طہارت متاثر نہیں ہوتی۔
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ غسل اور وضو کے لیے لکڑی، پیتل وغیرہ اور ہر وہ برتن استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
بشرطیکہ وہ سونے چاندی سے تیار نہ کیے گئے ہوں۔
➋ ایک برتن سے زن و شو کا ایک ساتھ غسل کرنا جائز ہے اور اس سے پانی کی طہارت اور پاکی کی صلاحیت متاثر نہیں ہوتی۔
➌ برتن میں آٹے اور طاہر چیز کے نشان اور معمولی ملاوٹ سے پانی طاہر و مطہر رہتا ہے اور طاہر چیز کے پانی میں واقع ہونے سے پانی کی طہارت متاثر نہیں ہوتی۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 240]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 240 in Urdu
مجاهد بن جبر القرشي ← فاختة بنت أبي طالب الهاشمية