صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1715. (160) باب كراهية الصدقة بالحشف من الثمار،
صدقے میں خراب پھل دینے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: Q2467
وَإِنْ كَانَتِ الصَّدَقَةُ تَطَوُّعًا، إِذِ الصَّدَقَةُ بِخَيْرِ الثِّمَارِ وَأَوْسَاطِهَا أَفْضَلُ مِنَ الصَّدَقَةِ بِشِرَارِهَا.
اگرچہ صدقہ نفلی ہو کیونکہ عمدہ اور درمیانے درجے کے پھل کا صدقہ دینا ردی پھل کے صدقے سے افضل ہے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: Q2467]
حدیث نمبر: 2467
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي عَرِيبٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، وَإِقْنَاءٌ مُعَلَّقَةٌ، وَقِنْوٌ مِنْهَا حَشَفٌ، وَمَعَهُ عَصًا فَطَعَنَ بِالْعَصَى الْقِنْوَ، قَالَ: " لَوْ شَاءَ رَبُّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ تَصَدَّقَ بِأَطْيَبَ مِنْهَا، إِنَّ صَاحِبَ هَذِهِ الصَّدَقَةِ يَأْكُلُ الْحَشَفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"
سیدنا عوف بن مالک شجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے تو کھجوروں کے خوشے لٹکے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک خوشہ خراب اور ردی تھا۔ آپ کے پاس ایک عصا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصا اس خوشے پر مارا (اور کھجوریں گرادیں) اور فرمایا: ”یہ خوشہ صدقہ کرنے والا چاہتا تو اس سے عمدہ صدقہ کرسکتا تھا بیشک اس خوشے کا مالک قیامت کے روزخراب اور ردی کھجویں کھائے گا۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 2467]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2467، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6774، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3144، 8404، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2492، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1608، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1821، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7621، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24609»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2467 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2467
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ جن لوگوں کی کھجوریں نصابِ زکاۃ کو پہنچیں، وہ زکاۃ کی ادائیگی میں اہل ِمسجد کا خیال بھی رکھیں اور کچھ کھجوریں مسجد میں ضرور پہنچائیں۔
➋ زکاۃ میں عمدہ مال ادا کرنا مستحب ہے اور ردی اور گھٹیا مال ادا کرنا مکروہ فعل ہے۔
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ جن لوگوں کی کھجوریں نصابِ زکاۃ کو پہنچیں، وہ زکاۃ کی ادائیگی میں اہل ِمسجد کا خیال بھی رکھیں اور کچھ کھجوریں مسجد میں ضرور پہنچائیں۔
➋ زکاۃ میں عمدہ مال ادا کرنا مستحب ہے اور ردی اور گھٹیا مال ادا کرنا مکروہ فعل ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2467]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2467 in Urdu
كثير بن مرة الحضرمي ← عوف بن مالك الأشجعي