صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1762. (21) باب إباحة سفر المرأة مع عبد زوجها أو مولاه
عورت اپنے خاوند کے غلام یا اس کے آزاد کردہ غلام کے ساتھ سفر کرسکتی ہے
تخریج الحدیث:
حدیث نمبر: 2528
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، نا عَمِّي ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرٍ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَشَجُّ ، أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ أَبِي رَافِعٍ ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ بَعْثٍ مَرَّةً، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اذْهَبْ فَآتِنِي بِمَيْمُونَةَ"، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي فِي الْبَعْثِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَسْتَ تُحِبُّ مَا أُحِبُّ؟" قُلْتُ: بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" اذْهَبْ، فَآتِنِي بِهَا"، قَالَ فَذَهَبْتُ فَجِئْتُهُ بِهَا
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ایک لشکر کے ساتھ تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حُکم دیا: ”جاؤ میمونہ رضی اللہ عنہا کو میرے پاس لے آؤ۔“ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کی نبی میں تو لشکر میں شامل ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس چیز کو میں پسند کرتا ہوں کیا تم اسے پسند نہیں کرتے؟“ میں نے عرض کیا کہ کیوں نہیں اے اللہ کے رسول، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ انہیں میرے پاس لے آؤ۔“ سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں تو میں گیا اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کو آپ کے پاس لیکر آیا۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2528]
تخریج الحدیث: اسناده صحيح
الرواة الحديث:
الحسن بن علي القرشي ← أبو رافع القبطي