صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1828. (87) باب إباحة الإحرام من غير صلاة متقدمة من مكتوبة أو تطوع
احرام سے پہلے فرض یا نفل نماز پڑھے بغیر بھی احرام باندھنا جائز ہے
حدیث نمبر: 2610
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَهُمْ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهُ خَرَجَ حَاجًّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ، وَمَعَهُ امْرَأَتُهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسِ بْنِ خَثْعَمٍ، فَلَمَّا كَانُوا بِالشَّجَرَةِ وَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِالشَّجَرَةِ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَتَى أَبُو بَكْرٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ،" فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْمُرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ، ثُمَّ تُهِلُّ بِالْحَجِّ، وَتَصْنَعُ مَا يَصْنَعُ النَّاسُ، إِلا أَنَّهَا لا تَطُوفُ بِالْبَيْتِ"
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجتہ لوداع والے سال حج کے لئے نکلے جب کہ ان کے ساتھ ان کی زوجہ محترمہ سیدہ اسما ء بنت عمیس بن خثعم رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ پھر جب وہ شجرہ (یعنی ذوالحلیفہ) کے مقام پر تھے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے محمد بن ابوبکر کو جنم دیا۔ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر آپ کو اس بات کی اطلاع دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کوحُکم دیا کہ وہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کو غسل کرنے کا حُکم دیں، پھر وہ حج کا تلبیہ پکاریں اور دیگر حاجیوں کی طرح تمام مناسک یاد کریں، لیکن وہ بیت اللہ کا طواف نہیں کریںگی۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2610]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 1150، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2610، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2662، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3629، 3630، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2912، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9033، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27726»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2610 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2610
فوائد:
➊ احرام باندھنے کے لیے نماز کی ادائیگی شرط نہیں، بلکہ حیض و نفاس والی عورت تو حالتِ حیض و نفاس ہی میں احرام باندھے گی اور نماز کا وقت نہ ہو تو نماز کی ادائیگی کے بغیر بھی احرام باندھنا جائز ہے۔
➊ احرام باندھنے کے لیے نماز کی ادائیگی شرط نہیں، بلکہ حیض و نفاس والی عورت تو حالتِ حیض و نفاس ہی میں احرام باندھے گی اور نماز کا وقت نہ ہو تو نماز کی ادائیگی کے بغیر بھی احرام باندھنا جائز ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2610]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2610 in Urdu
محمد بن أبي بكر الصديق ← أبو بكر الصديق