صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1831. (90) بَابُ اسْتِحْبَابِ الِاسْتِقْبَالِ بِالرَّاحِلَةِ الْقِبْلَةَ إِذَا أَرَادَ الرَّاكِبُ الْإِهْلَالَ
جب سوار تلبیہ پکارنے کا ارادہ کرے تو سواری کو قبلہ رخ کرنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 2614
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ،" أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ أَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ فَرُحِلَتْ، ثُمَّ صَلَّى الْغَدَاةَ، ثُمَّ رَكِبَ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَأَهَلَّ، قَالَ: ثُمَّ يُلَبِّي حَتَّى إِذَا بَلَغَ الْحَرَمَ أَمْسَكَ حَتَّى إِذَا أَتَى ذَا طُوًى بَاتَ بِهِ، قَالَ: فَيُصَلِّي بِهِ الْغَدَاةَ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ" ، فَزَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ
امام نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب ذوالحلیفہ پہنچ جاتے تو اپنی سواری پر کجاوہ کسنے کا حُکم دیتے۔ پھر وہ صبح کی نماز ادا کرتے۔ پھر اپنی سواری پر سوار ہوتے حتّیٰ کہ جب وہ آپ کو لیکر سیدھی ہو جاتی تو آپ قبلہ رخ ہوتے اور تلبیہ پکارتے۔ پھر آپ (دورانِ سفر) تلبیہ پکارتے رہتے حتّیٰ کہ جب حرم میں پہنچ جاتے تو تلبیہ پڑھنا بند کر دیتے۔ جب ذی طوی مقام پر پہنچتے تورات وہیں گزارتے پھر صبح کی نماز وہاں پڑھ کر غسل کرتے۔ (پھر بیت اللہ میں داخل ہوتے) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2614]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 484، 485، 487، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1188، ومالك فى (الموطأ) برقم: 489، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2614، 2616، 2692، 2694، 2695، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3908، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2658، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2044، والترمذي فى (جامعه) برقم: 854، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1968، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2941، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9083، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4746»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2614 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2614
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ احرام باندھ کر حج و عمرہ کا تلبیہ کہتے وقت سواری کا رخ قبلہ رو کرنا مستحب فعل ہے۔
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ احرام باندھ کر حج و عمرہ کا تلبیہ کہتے وقت سواری کا رخ قبلہ رو کرنا مستحب فعل ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2614]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2614 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي