صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1834. (93) باب استحباب الصلاة فى ذلك الوادي
وادی عقیق میں نفل نماز پڑھنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 2617
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، حَدَّثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتٍ مِنْ رَبِّي وَهُوَ بِالْعَقِيقِ أَنْ صَلِّ فِي هَذَا الْوَادِي الْمُبَارَكِ، وَقُلْ: عُمْرَةً فِي حَجَّةٍ"
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا: ”آج رات میرے پاس میرے رب کا ایک فرشتہ آیا، جبکہ آپ اس رات وادی عقیق میں تشریف فرما تھے، کہ آپ اس مبارک وادی میں نماز ادا کریں۔ اور کہیں: ”عمرہ، حج میں شامل ہو گیا ہے (آئندہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا جائز ہے)۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2617]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1534، 2337، 7343، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2617، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3790، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1800، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2976، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8936، وأحمد فى (مسنده) برقم: 163، والحميدي فى (مسنده) برقم: 19»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2617 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2617
فوائد:
حج سے واپسی پر ذوالحلیفہ میں نزول کرنا مناسکِ حج میں سے نہیں۔
ایسا عمل کرنے والا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آثار کی اتباع میں بطورِ تبرک کرتا ہے، نیز یہ وادی بھی مبارک ہے۔
◈ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
مقامِ ذوالحلیفہ میں نزول کرنا اور نماز ادا کرنا مستحب فعل ہے اور اس مقام کو نماز ادا کیے بغیر عبور نہ کیا جائے، خواہ نماز کا وقت نہ ہو۔ [شرح النووي: 9/110]
حج سے واپسی پر ذوالحلیفہ میں نزول کرنا مناسکِ حج میں سے نہیں۔
ایسا عمل کرنے والا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آثار کی اتباع میں بطورِ تبرک کرتا ہے، نیز یہ وادی بھی مبارک ہے۔
◈ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
مقامِ ذوالحلیفہ میں نزول کرنا اور نماز ادا کرنا مستحب فعل ہے اور اس مقام کو نماز ادا کیے بغیر عبور نہ کیا جائے، خواہ نماز کا وقت نہ ہو۔ [شرح النووي: 9/110]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2617]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2617 in Urdu
عبد الله بن العباس القرشي ← عمر بن الخطاب العدوي