صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1894. (153) باب استحباب الاغتسال لدخول مكة، إذ النبى صلى الله عليه وسلم اغتسل عند إرادته دخول مكة
مکّہ مکرّمہ میں داخل ہوتے وقت غسل کرنا مستحب ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکّہ مکرّمہ میں داخل ہونے سے پہلے غسل کیا تھا
حدیث نمبر: 2695
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ،" كَانَ إِذَا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ أَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ فَرُحِلَتْ، ثُمَّ صَلَّى الْغَدَاةَ، ثُمَّ رَكِبَ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَأَهَلَّ، ثُمَّ يُلَبِّي حَتَّى إِذَا بَلَغَ الْحَرَمَ أَمْسَكَ حَتَّى إِذَا أَتَى ذَا طُوًى بَاتَ بِهِ، قَالَ: فَيُصَلِّي بِهِ الْغَدَاةَ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ ، وَزَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ"
جناب نافع سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب ذوالحلیفہ پہنچ جاتے تو اپنی سواری پر کجاوه رکھنے کا حُکم دیتے، تو کجاوہ رکھ دیا گیا، پھر انہوں نے صبح کی نماز ادا کی، پھر وہ سوار ہوئے، جب سواری انہیں لیکر سیدھی ہوگئی تو انہوں نے قبلہ رُخ ہوکر نیت کی اور تلبیہ پکارنا شروع کیا کہ جب حرم کی حدود میں گئے تو تلبیہ پڑھنا بند کردیا۔ جب ذی طویٰ مقام پر پہنچے تو رات وہیں بسر کی۔ پھر صبح کی نماز ادا کی پھر غسل کیا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ اعتقاد تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2695]
تخریج الحدیث: اسناده صحيح
الرواة الحديث:
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي