صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1895. (154) باب قطع التلبية فى الحج عند دخول الحرم إلى الفراغ من السعي بين الصفا والمروة.
حج کے موقع پر حاجی حرم میں داخل ہوتے وقت تلبیہ پکارنا بند کردے یہاں تک کہ صفا اور مروہ کی سعی سے فارغ ہوجائے
حدیث نمبر: 2696
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمِّي ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، قَالَ: حَجَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بَيْنَ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ مَرَّةً، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، لَقَدْ رَأَيْتُ مِنْكَ أَرْبَعَ خِصَالٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: رَأَيْتُكَ إِذَا أَهْلَلْتَ، فَدَخَلْتَ الْعَرْشَ قَطَعْتَ التَّلْبِيَةَ، قَالَ: صَدَقْتَ يَا ابْنَ حُنَيْنٍ , خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا دَخَلَ الْعَرْشَ قَطَعَ التَّلْبِيَةَ ، فَلا تَزَالُ تَلْبِيَتِي حَتَّى أَمُوتَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ كُنْتُ أَرَى لِلْمُعْتَمِرِ التَّلْبِيَةَ حَتَّى يَسْتَلِمَ الْحَجَرَ أَوَّلَ مَا يَبْتَدِئُ الطَّوَافَ لِعُمْرَتِهِ لِخَبَرِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُمْسِكُ عَنِ التَّلْبِيَةِ فِي الْعُمْرَةِ إِذَا اسْتَلَمَ الْحَجَرَ".
جناب عبید بن حنین بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کے ساتھ تقریباً بارہ حج اور عمرے کیے ہیں۔ میں نے اُن سے عرض کیا کہ اے ابو عبدالرحمان، میں نے آپ سے چار خصوصی باتیں نوٹ کی ہیں۔ پھرمکمّل حدیث بیان کی اور بیان کیا کہ میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ جب آپ احرام باندھ کر تلبیہ پکارتے تو مکّہ مکرّمہ کی آبادی میں پہنچ کر تلبیہ کہنا بند کر دیتے، اُنہوں نے فرمایا کہ اے ابن حنین، تم نے سچ بات بیان کی ہے۔ میں رسول اللہ کے ساتھ (حج کے لئے نکلا) تو جب آپ مکّہ مکرّمہ کی آبادی میں داخل ہوئے تو آپ نے تلبیہ کہنا بند کردیا۔ لہٰذا میں تا حیات اسی طریقہ پر تلبیہ کہتا رہوںگا۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میرا موقف یہ تھا کہ عمرہ کرنے والا شخص طواف شروع کرتے وقت حجراسود کو چُھونے یا بوسہ دینے تک تلبیہ کہتا رہیگا، کیونکہ ابن ابی لیلی کی عطاء کے واسطے سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرے میں حجراسود کو چُھونے کے بعد تلبیہ کہنا بند کر دیتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2696]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 166، 1606، 1609، 5851، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1187، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1195، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 199، 2696، 2725، 2729، 2730، 2753، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3697، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1805، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 117، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1772، 1874، 1876، والترمذي فى (جامعه) برقم: 959، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1880، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2946، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1383، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2581، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4548»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2696 in Urdu
عبيد بن حنين الطائي ← عبد الله بن عمر العدوي