🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
216. ‏(‏214‏)‏ باب حت دم الحيضة من الثوب، وقرصه بالماء ورش الثوب بعده
کپڑے سے حیض کا خون کُھرچنا اور اسے پانی سے ملنا اور اس کے بعد کپڑے کو چھینٹے مارنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 275
نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ . ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ . ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ . ح وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وَحَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُمْ، كُلُّهُمْ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، نا أَبُو أُسَامَةَ ، نا هِشَامٌ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، نا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ، فَقَالَ:" حُتِّيهِ، ثُمَّ اقْرُصِيهِ بِالْمَاءِ، ثُمَّ انْضَحِيهِ" . هَذَا حَدِيثُ حَمَّادٍ، وَفِي خَبَرِ ابْنِ عُيَيْنَةَ:" ثُمَّ رُشِّي وَصَلِّي فِيهِ"، وَفِي خَبَرِ يَحْيَى:" ثُمَّ تَنْضَحِيهِ وَتُصَلِّي فِيهِ"، وَلَمْ يَذْكُرِ الآخَرُونَ النَّضْحَ وَلا الرَّشَّ، إِنَّمَا ذَكَرُوا الْحَتَّ، وَالْقَرْصَ بِالْمَاءِ، ثُمَّ الصَّلاةَ فِيهِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ: وَحُتِّيهِ، ثُمَّ اقْرُصِيهِ بِالْمَاءِ، لَمْ يَزِدْ عَلَى هَذَا
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کپڑے کو لگ جانے والے حیض کے خون کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اسے کھرچ دے، پھراسے پانی سے ملو پھر اسے چھینٹے مار لو۔ یہ حماد کی حدیث ہے۔ ابن عیینہ کی روایت میں ہے۔ «‏‏‏‏ثُمَّ رُشِّيَ وَصَلِّي فِيْهِ» ‏‏‏‏ پھر اسے پانی سے چھینٹے مار اور اس میں نماز پڑھ لے۔ یحییٰ کی روایت میں ہے: «‏‏‏‏ثُمَّ تَنْضَحِيْهِ وَ تُصَلِّيْ فِيْهِ» ‏‏‏‏ پھر اسے دھو کر اس میں نماز پڑھ لے۔ باقی راویوں نے چھینٹے مارنے اور دھونے کا ذکر نہیں کیا۔ اُنہوں نے صرف کُھرچنے، پانی سے ملنے اور پھر اُس کپڑے میں نماز پڑھنے کا ذکر کیا ہے۔ جبکہ وکیع کی حدیث میں ہے: «‏‏‏‏وُحُتِّيْهِ ثُمَّ اقْرُصِيْهِ بِالْمَاءِ» ‏‏‏‏ اور اسے کُھرچ لو پھر اسے پانی سے مل لو اس سے زیادہ الفاظ بیان نہیں کیے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب تطهير الثياب بالغسل من الأنجاس/حدیث: 275]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 227، 307، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 291، ومالك فى (الموطأ) برقم: 196، وابن الجارود فى "المنتقى"، 134، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 275، 276، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1396، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 292، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 281، وأبو داود فى (سننه) برقم: 360، 361، والترمذي فى (جامعه) برقم: 138، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 629، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 35، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27562، والحميدي فى (مسنده) برقم: 322»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أسماء بنت أبي بكر القرشية، أم عبد اللهصحابي
👤←👥فاطمة بنت المنذر الأسدية
Newفاطمة بنت المنذر الأسدية ← أسماء بنت أبي بكر القرشية
ثقة
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← فاطمة بنت المنذر الأسدية
ثقة إمام في الحديث
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية
Newمحمد بن خازم الأعمى ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة
👤←👥محمد بن عبد الله المخرمي، أبو جعفر
Newمحمد بن عبد الله المخرمي ← محمد بن خازم الأعمى
ثقة حافظ أمين
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← محمد بن عبد الله المخرمي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة حافظ
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← محمد بن العلاء الهمداني
ثقة إمام في الحديث
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← هشام بن عروة الأسدي
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة حافظ
👤←👥يونس بن عبد الأعلي الصدفي، أبو موسى
Newيونس بن عبد الأعلي الصدفي ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← يونس بن عبد الأعلي الصدفي
ثقة حافظ إمام
👤←👥سلم بن جنادة السوائي، أبو السائب
Newسلم بن جنادة السوائي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← سلم بن جنادة السوائي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥يحيى بن حكيم المقوم، أبو سعيد
Newيحيى بن حكيم المقوم ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ مصنف
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← يحيى بن حكيم المقوم
ثقة حافظ حجة
👤←👥علي بن خشرم المروزي، أبو الحسن
Newعلي بن خشرم المروزي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← علي بن خشرم المروزي
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥أحمد بن عبدة الضبي، أبو عبد الله
Newأحمد بن عبدة الضبي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 275 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 275
فوائد:
➊ اس حدیث میں حیض آلود کپڑے کی خوب طہارت کے طریقے کا بیان ہے کہ اولاً حیض آلود کپڑے کو کھرچا جائے، پھر اسے انگلیوں سے ملا جائے اور بعد میں اس پر خوب پانی بہایا جائے۔
اس کے بعد اگر خون کے نشانات باقی رہ جائیں تو یہ نشانات مضر نہیں ہیں۔
کیونکہ اس طریقے سے کپڑے کی یقینی طہارت حاصل ہو جاتی ہے۔
➋ امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
◈ یہ حدیث دلیل ہے کہ نجاست کو پانی سے دھونا واجب ہے اور سرکہ یا دیگر مائعات سے نجاست دھونا ناکافی ہے۔
(اس سے طہارت حاصل نہیں ہوتی) کیونکہ اس میں مامور بہ چیز کو ترک کرنا ہے۔
◈ حیض کا خون بالاجماع نجس ہے۔
◈ نجاست کے ازالے کے لیے پانی کے استعمال کا عدد شرط نہیں، بلکہ اس میں خوب صفائی ملحوظ ہے۔
(وہ ایک مرتبہ یا کئی مرتبہ دھونے سے حاصل ہو جائے کافی ہے) [شرح صحيح مسلم للنووي: 199/3]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 275]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 275 in Urdu