صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
217. (215) باب ذكر الدليل على أن النضح المأمور به هو نضح ما لم يصب الدم من الثوب.
اس بات کی دلیل کا بیان کہ چھینٹے مارنے کا حکم اس کپڑے کے متعلق ہے جسے خون نہ لگا ہو
حدیث نمبر: 276
نا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، نا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، تُحَدِّثُ، عَنْ جَدَّتِهَا أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهَا سَمِعَتِ امْرَأَةً تَسْأَلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِحْدَانَا إِذَا طَهُرَتْ كَيْفَ تَصْنَعُ بِثِيَابِهَا الَّتِي كَانَتْ تَلْبَسُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ رَأَتْ فِيهِ شَيْئًا فَلْتَحُكُّهُ، ثُمَّ لِتَقْرُصْهُ بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ، وَتَنْضَحُ فِي سَائِرِ الثَّوْبِ مَاءً وَتُصَلِّي فِيهِ" . نا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، نا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، بِهَذَا مِثْلَهُ، وَقَالَ: وَقَالَ:" إِنْ رَأَيْتِ فِيهِ دَمًا فَحُكِّيهِ، ثُمَّ اقْرُصِيهِ بِالْمَاءِ، ثُمَّ انْضَحِي سَائِرَهُ، ثُمَّ صَلِّي فِيهِ"
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اُنہوں نے ایک عورت کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے سنا، اُس نے کہا کہ جب ہم سے کوئی عورت (حیض سے) پاک ہو جائے تو وہ اُن کپڑوں کا کیا کرے، جو وہ (حیض کے دنوں میں) پہنا کرتی تھی؟ َ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ اس میں کوئی چیز (خون) دیکھے تو اُسے کھرچ لینا چاہیے پھر اُسے تھوڑے سے پانی کے ساتھ مل لینا چاہیے اور سارے کپڑے کو چھینٹے مار کر اس میں نماز پڑھ لے۔“ امام صاحب اپنے استاد یحییٰ بن حکیم سے اور ابن عدی سے اور وہ محد بن اسحاق سے مذکورہ بالا روایت کی طرح بیان کرتے ہیں۔ اس میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تُو اُس میں خون دیکھے تواُسے پانی کے ساتھ کُھرچ لو، پھر سارے کپڑے پر چھینٹے مارو، پھر اُس میں نماز پڑھ لو۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب تطهير الثياب بالغسل من الأنجاس/حدیث: 276]
تخریج الحدیث: اسناده حسن صحيح
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 276 in Urdu
محمد بن إبراهيم السلمي ← ابن إسحاق القرشي