صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1955. (214) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الرُّكُوبِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ إِذَا أُوذِيَ الطَّائِفُ بَيْنَهُمَا بِالِازْدِحَامِ عَلَيْهِ،
صفا اور مروہ کی سعی کے دوران میں سواری پر بیٹھنے کی رخصت ہے
حدیث نمبر: Q2779
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الرُّكُوبَ بَيْنَهُمَا إِبَاحَةٌ لَا أَنَّهُ سُنَّةٌ وَاجِبَةٌ، وَلَا أَنَّهُ سُنَّةُ فَضِيلَةٍ بَلْ هِيَ سُنَّةُ إِبَاحَةٍ
جبکہ سعی کرنے والے کو لوگوں کے ہجوم کی وجہ سے تکلیف کا سامنا ہو۔ اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ صفا اور مروہ کے درمیان سواری پر بیٹھنا جائز ہے، نہ یہ سنّت موَکدہ ہے اور نہ سنّت فضیلت بلکہ یہ جواز کے لئے ہے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: Q2779]
حدیث نمبر: 2779
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: قُلْتُ لابْنِ عَبَّاسٍ : أَرَأَيْتَ الرُّكُوبَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ؟ قَالَ: قَوْمُكَ يَزْعُمُونَ أَنَّهَا سُنَّةٌ، قَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا،" جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ فَجَعَلَ يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَخَرَجَ أَهْلُ مَكَّةَ حَتَّى خَرَجَ النِّسَاءُ، وَكَانَ لا يَضْرِبُ أَحَدًا عِنْدَهُ وَلا يَدَعُونَهُ فَدَعَا بِرَاحِلَتِهِ فَرَكِبَ، وَلَوْ يُتْرَكُ لَكَانَ الْمَشْيُ أَحَبَّ إِلَيْهِ" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا يُرِيدُ صَدَقُوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَكِبَ بَيْنَهُمَا، وَكَذَبُوا بِقَوْلِ إِنَّهُ لَيْسَ بِسُنَّةٍ وَاجِبَةٍ، وَلا فَضِيلَةٍ، وَإِنَّمَا هِيَ إِبَاحَةٌ لا حَتْمٌ، وَلا فَضِيلَةٌ
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ مجھے بتائیں کہ صفا اور مروہ کی سعی سوار ہوکر کرنے کا کیا حُکم ہے کیونکہ آپ کی قوم کا خیال ہے کہ یہ سنّت نبوی ہے۔ اُنہوں نے فرمایا کہ انہوں نے سچ کہا ہے (کہ نبی اکرم نے صفا مروہ کی سعی سوار ہو کر کی تھی) اور یہ بات غلط کی ہے کہ یہ سنّت ہے۔ (اصل واقعہ یہ ہے کہ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکّہ مکرّمہ تشریف لائے تو صفا اور مروہ کی سعی شروع کی، پس اہلِ مکّہ نکل آئے حتّیٰ کہ عورتیں بھی آپ کی زیارت کے لئے آئیں۔ اور آپ کے پاس سے کسی کو مار کر بٹایا نہیں جاتا تھا اور نہ آ پکو لوگ چھوڑتے تھے۔ چنانچہ آپ نے اپنی سواری منگوائی اور اس پر سوار ہوگئے اور اگر لوگ آپ کو پیدل سعی کرنے دیتے تو آپ کو پیدل سعی کرنا ہی زیادہ پسند تھا۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ کہنا کہ انہوں نے سچ کہا ہے اور غلط بیانی بھی کی ہے۔ اس سے اُن کی مراد یہ ہے کہ انہوں نے یہ بات کہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا مروہ کی سعی سوار ہوکر کی تھی اور ان کی یہ بات غلط ہے کہ یہ سنّت موکدہ یا فضیلت کی حامل سنّت ہے، بیشک یہ تو صرف جواز کے لئے ہے نہ واجب ہے نہ فضیلت کا باعث۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2779]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1602، 1649، 4256، 4257، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1264، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2707، 2719، 2720، 2777، 2779، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3811، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2945، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1885، والترمذي فى (جامعه) برقم: 863، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2953، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9341، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1946»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2779 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2779
فوائد:
➊ سواری پر طواف کرنا اور صفا و مروہ کی سعی کرنا جائز و مسنون ہے۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سواری پر طواف کرنے اور صفا و مروہ کی سعی کرنے کا مقصود یہ تھا کہ لوگ ارکانِ حج سیکھ لیں۔ علت جو بھی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل سواری استعمال کرنے کے جواز کی دلیل ہے۔
➊ سواری پر طواف کرنا اور صفا و مروہ کی سعی کرنا جائز و مسنون ہے۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سواری پر طواف کرنے اور صفا و مروہ کی سعی کرنے کا مقصود یہ تھا کہ لوگ ارکانِ حج سیکھ لیں۔ علت جو بھی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل سواری استعمال کرنے کے جواز کی دلیل ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2779]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2779 in Urdu
عامر بن واثلة الليثي ← عبد الله بن العباس القرشي