🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1955. ‏(‏214‏)‏ باب الرخصة فى الركوب بين الصفا والمروة إذا أوذي الطائف بينهما بالازدحام عليه،
صفا اور مروہ کی سعی کے دوران میں سواری پر بیٹھنے کی رخصت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2779
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الرُّكُوبَ بَيْنَهُمَا إِبَاحَةٌ لَا أَنَّهُ سُنَّةٌ وَاجِبَةٌ، وَلَا أَنَّهُ سُنَّةُ فَضِيلَةٍ بَلْ هِيَ سُنَّةُ إِبَاحَةٍ
جبکہ سعی کرنے والے کو لوگوں کے ہجوم کی وجہ سے تکلیف کا سامنا ہو۔ اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ صفا اور مروہ کے درمیان سواری پر بیٹھنا جائز ہے، نہ یہ سنّت موَکدہ ہے اور نہ سنّت فضیلت بلکہ یہ جواز کے لئے ہے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: Q2779]
تخریج الحدیث:

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2779
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: قُلْتُ لابْنِ عَبَّاسٍ : أَرَأَيْتَ الرُّكُوبَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ؟ قَالَ: قَوْمُكَ يَزْعُمُونَ أَنَّهَا سُنَّةٌ، قَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا،" جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ فَجَعَلَ يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَخَرَجَ أَهْلُ مَكَّةَ حَتَّى خَرَجَ النِّسَاءُ، وَكَانَ لا يَضْرِبُ أَحَدًا عِنْدَهُ وَلا يَدَعُونَهُ فَدَعَا بِرَاحِلَتِهِ فَرَكِبَ، وَلَوْ يُتْرَكُ لَكَانَ الْمَشْيُ أَحَبَّ إِلَيْهِ" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا يُرِيدُ صَدَقُوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَكِبَ بَيْنَهُمَا، وَكَذَبُوا بِقَوْلِ إِنَّهُ لَيْسَ بِسُنَّةٍ وَاجِبَةٍ، وَلا فَضِيلَةٍ، وَإِنَّمَا هِيَ إِبَاحَةٌ لا حَتْمٌ، وَلا فَضِيلَةٌ
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ مجھے بتائیں کہ صفا اور مروہ کی سعی سوار ہوکر کرنے کا کیا حُکم ہے کیونکہ آپ کی قوم کا خیال ہے کہ یہ سنّت نبوی ہے۔ اُنہوں نے فرمایا کہ انہوں نے سچ کہا ہے (کہ نبی اکرم نے صفا مروہ کی سعی سوار ہو کر کی تھی) اور یہ بات غلط کی ہے کہ یہ سنّت ہے۔ (اصل واقعہ یہ ہے کہ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکّہ مکرّمہ تشریف لائے تو صفا اور مروہ کی سعی شروع کی، پس اہلِ مکّہ نکل آئے حتّیٰ کہ عورتیں بھی آپ کی زیارت کے لئے آئیں۔ اور آپ کے پاس سے کسی کو مار کر بٹایا نہیں جاتا تھا اور نہ آ پکو لوگ چھوڑتے تھے۔ چنانچہ آپ نے اپنی سواری منگوائی اور اس پر سوار ہوگئے اور اگر لوگ آپ کو پیدل سعی کرنے دیتے تو آپ کو پیدل سعی کرنا ہی زیادہ پسند تھا۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ کہنا کہ انہوں نے سچ کہا ہے اور غلط بیانی بھی کی ہے۔ اس سے اُن کی مراد یہ ہے کہ انہوں نے یہ بات کہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا مروہ کی سعی سوار ہوکر کی تھی اور ان کی یہ بات غلط ہے کہ یہ سنّت موکدہ یا فضیلت کی حامل سنّت ہے، بیشک یہ تو صرف جواز کے لئے ہے نہ واجب ہے نہ فضیلت کا باعث۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2779]
تخریج الحدیث: تقدم۔۔۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عامر بن واثلة الليثي، أبو الطفيل
Newعامر بن واثلة الليثي ← عبد الله بن العباس القرشي
له إدراك
👤←👥سعيد بن إياس الجريري، أبو مسعود
Newسعيد بن إياس الجريري ← عامر بن واثلة الليثي
ثقة
👤←👥خالد بن عبد الله الطحان، أبو محمد، أبو الهيثم
Newخالد بن عبد الله الطحان ← سعيد بن إياس الجريري
ثقة ثبت
👤←👥إسحاق بن شاهين الواسطي، أبو بشر
Newإسحاق بن شاهين الواسطي ← خالد بن عبد الله الطحان
ثقة