صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1957. (216) باب تقبيل طرف المحجن إذا استلم به الركن
حجر اسود کو چھڑی کے ساتھ چھونے کی بعد چھڑی کے اس کنارے کو بوسہ دینے کا بیان،
حدیث نمبر: 2783
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي خَرَّبُوذَ ، حَدَّثَنِي أَبُو الطُّفَيْلِ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِالْبَيْتِ، وَيَسْتَلِمُ الأَرْكَانَ بِمِحْجَنِهِ"، قَالَ:" وَأُرَاهُ يُقَبِّلُ طَرَفَ الْمِحْجَنِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا فَطَافَ عَلَى رَاحِلَتِهِ"
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سواری پر بیٹھ کر بیت اللہ شریف کا طواف کرتے ہوئے دیکھا۔ آپ حجر اسود اور رکن یمانی کو اپنی لاٹھی کے ساتھ چھوتے تھے، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ چھڑی کے کنارے کو بوسہ دیتے تھے۔ پھر آپ صفا کی طرف گئے تو آپ نے اپنی سواری پرسعی کی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2783]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1275، وابن الجارود فى "المنتقى"، 511، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2782، 2783، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1879، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2949، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9476، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24321، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 13304»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عامر بن واثلة الليثي، أبو الطفيل | له إدراك | |
👤←👥معروف بن خربوذ المكي معروف بن خربوذ المكي ← عامر بن واثلة الليثي | صدوق ربما وهم | |
👤←👥الضحاك بن مخلد النبيل، أبو عاصم الضحاك بن مخلد النبيل ← معروف بن خربوذ المكي | ثقة ثبت | |
👤←👥أحمد بن سعيد الدارمي، أبو جعفر أحمد بن سعيد الدارمي ← الضحاك بن مخلد النبيل | ثقة حافظ |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2783 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2783
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ دورانِ طواف حجرِ اسود کو چھونا مستحب فعل ہے، لیکن اگر سوار یا کوئی اور شخص حجرِ اسود کو ہاتھ سے چھو نہ سکے تو چھڑی سے چھو کر اس چھڑی کو چومنا جائز ہے۔
شافعیہ اسی مذہب کے قائل ہیں۔ [شرح النووي: 9/20]
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ دورانِ طواف حجرِ اسود کو چھونا مستحب فعل ہے، لیکن اگر سوار یا کوئی اور شخص حجرِ اسود کو ہاتھ سے چھو نہ سکے تو چھڑی سے چھو کر اس چھڑی کو چومنا جائز ہے۔
شافعیہ اسی مذہب کے قائل ہیں۔ [شرح النووي: 9/20]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2783]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2783 in Urdu
معروف بن خربوذ المكي ← عامر بن واثلة الليثي