صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1967. (226) باب وقت الخروج يوم التروية من مكة إلى منى
یوم الترویہ (8 ذوالحجہ) کو مکّہ مکرّمہ سے منیٰ کی طرف روانہ ہونے کے وقت کا بیان
حدیث نمبر: 2796
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ عَقِلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ؟ قَالَ:" بِمِنًى"، قُلْتُ: فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ؟ قَالَ:" بِالأَبْطَحِ"، ثُمَّ قَالَ:" افْعَلْ كَمَا فَعَلَ أُمَرَاؤُكَ"
جناب عبد العزیز بن رفیع بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا اور اُن سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی چیز بتائیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمجھی ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم الترویہ کو ظہر کی نماز کہاں پڑھی تھی؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ منیٰ میں۔ میں نے عرض کیا کہ روانگی والے دن عصر کی نماز کہاں پڑھی تھی؟ اُنہوں نے فرمایا کہ ابطح میں۔ پھر فرمایا کہ تم ویسے ہی کرو جیسے تمہارے حکمران کریں۔ (وہ جہاں نماز پڑھیں تم وہیں پڑھ لو)۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2796]
تخریج الحدیث: اسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥عبد العزيز بن رفيع الأسدي، أبو عبد الله عبد العزيز بن رفيع الأسدي ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← عبد العزيز بن رفيع الأسدي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥إسحاق بن يوسف الأزرق، أبو محمد إسحاق بن يوسف الأزرق ← سفيان الثوري | ثقة مأمون | |
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى محمد بن المثنى العنزي ← إسحاق بن يوسف الأزرق | ثقة ثبت |
عبد العزيز بن رفيع الأسدي ← أنس بن مالك الأنصاري