پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1988. (247) باب ذكر الدليل علٰي أنا الحاج إذا لم يدرك عرفة قبل طلوع الفجر من يوم النحر فهو فائت الحج غير مدركه
اس بات کی دلیل کا بیان کہ اگر حاجی یوم النحر کی فجر طلوع ہونے تک عرفات نہ پہنچ سکے تو اس کا حج فوت ہو جائیگا، وہ حج کو نہیں پا سکے گا۔
حدیث نمبر: 2822
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الثَّوْرِيِّ . ح وحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى . ح وحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَهَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمُرَ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ، وَأَتَاهُ أُنَاسٌ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ، وَهُمْ بِعَرَفَةَ، فَسَأَلُوهُ فَأَمَرَ مُنَادِيًا، فَنَادَى، " الْحَجُّ عَرَفَةُ، مَنْ جَاءَ لَيْلَةَ جَمْعٍ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ، أَيَّامُ مِنًى ثَلاثَةٌ، فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ، فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ، وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ"، وَأَرْدَفَ رَجُلا يُنَادِي ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ الْحَجُّ عَرَفَةُ مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَعْلَمْتُ فِي كِتَابِ الإِيمَانِ أَنَّ الاسْمَ بِاسْمِ الْمَعْرِفَةِ قَدْ يَقَعُ عَلَى بَعْضِ أَجْزَاءِ الشَّيْءِ ذِي الشُّعَبِ وَالأَجْزَاءِ، قَدْ أَوْقَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَ الْحَجَّ بِاسْمِ الْمَعْرِفَةِ عَلَى عَرَفَةَ، أَرَادَ الْوُقُوفَ بِهَا وَلَيْسَ الْوُقُوفُ بِعَرَفَةَ جَمِيعَ الْحَجِّ، إِنَّمَا هُوَ بَعْضُ أَجْزَائِهِ لا كُلُّهُ، وَقَدْ بَيَّنْتُ مِنْ هَذَا الْجِنْسِ فِي كِتَابِ الإِيمَانِ مَا فِيهِ الْغُنْيَةِ وَالْكِفَايَةِ لِمَنْ وَفَّقَهُ اللَّهُ لِلإِرْشَادِ وَالصَّوَابِ
سیدنا عبدالرحمٰن بن یعمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عرفات میں حاضر ہوا اور آپ کے پاس نجد کے کچھ لوگ بھی حاضر ہوئے جبکہ وہ بھی عرفات ہی میں تھے۔ اُنھوں نے آپ سے سوال کیا تو آپ نے منادی کرنے والے کو حُکم دیا تو اُس نے یہ اعلان کیا کہ ”حج عرفہ ہے۔ جو شخص مزدلفہ کی رات طلوع فجر سے پہلے پہلے عرفات گیا تو اُس نے حج پالیا منیٰ میں ٹھہرنے کے تین دن ہیں۔ پھر جو شخص دو دن میں جلدی کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جوتأخیر کرے (تیسرا دن بھی منیٰ میں گزارے) تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیا جو یہ اعلان کر رہا تھا۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ الفاظ ”حج عرفہ ہے“ یہ مسئلہ اسی قسم سے ہے جسے میں کتاب الایمان میں بیان کر چکا ہوں کہ کبھی الف لام کے ساتھ معرفہ بننے والے اسم کا اطلاق پوری چیز کی بجائے اس کے کسی جز اور حصّے پر بھی ہوجاتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ”الحج“ کہہ کر مراد عرفات کا وقوف لیا ہے حالانکہ وقوف عرفات مکمّل حج نہیں ہے بلکہ یہ توحج کا ایک حصّہ ہے۔ میں نے کتاب الایمان میں یہ قسم بیان کردی ہے، جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے دینی سمجھ بوجھ اور درست راستے کی ہدایت دی ہو اُس کے لئے یہی کافی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2822]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 515، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2822، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3892، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1709، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3016، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1949، والترمذي فى (جامعه) برقم: 889، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2516، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19075»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2822 in Urdu
بكير بن عطاء الليثي ← عبد الرحمن بن يعمر الديلي