صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2009. (268) باب ترك التطوع بين الصلاتين إذا جمع بينهما بالمزدلفة
جب مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کو جمع کر کے ادا کریںگے تو ان کے درمیان کوئی نفل یا سنّت نہیں پڑھیں گے
حدیث نمبر: Q2849
مَعَ الْبَيَانِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِالْمُزْدَلِفَةِ صَلَاةَ الْمُسَافِرِ لَا صَلَاةَ الْمُقِيمِ.
اور اس بات کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مسافر والی نماز پڑھی تھی، مقیم والی نہیں [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: Q2849]
حدیث نمبر: 2849
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ ، قَالَ: " جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ، وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ لَيْسَ بَيْنَهُمَا سَجْدَةٌ صَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلاثَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ" ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُصَلِّي بِجَمْعٍ كَذَلِكَ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کرکے ادا کیں، ان کے درمیان کوئی نماز نہیں پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی تین رکعات اور عشاء کی دو رکعت ادا کیں۔ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مزدلفہ میں ساری عمر اسی طرح نماز (قصر اور جمع کرکے) ادا کرتے رہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2849]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1668، 1673، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 703، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1499، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2848، 2849، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3859، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 480، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1926، والترمذي فى (جامعه) برقم: 887، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1909، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2575»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2849 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2849
فوائد:
➊ عرفات سے واپس مزدلفہ کی طرف جانے والے کے لیے مستحب ہے کہ مزدلفہ میں پہنچے بغیر نمازِ مغرب ادا نہ کرے اور مزدلفہ میں پہنچ کر مغرب و عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھے۔ اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ◈ اہل علم کا اس مسئلہ پر اجماع ہے۔ [المغني: 446/3]
➋ مزدلفہ میں پہنچ کر نمازِ مغرب و عشاء جلدی ادا کرنا افضل ہے اور طلوعِ فجر سے کچھ دیر پہلے تک ان نمازوں کی تاخیر بھی جائز ہے۔
➌ مغرب و عشاء کی دونوں نمازوں میں کچھ فاصلہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
➊ عرفات سے واپس مزدلفہ کی طرف جانے والے کے لیے مستحب ہے کہ مزدلفہ میں پہنچے بغیر نمازِ مغرب ادا نہ کرے اور مزدلفہ میں پہنچ کر مغرب و عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھے۔ اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ◈ اہل علم کا اس مسئلہ پر اجماع ہے۔ [المغني: 446/3]
➋ مزدلفہ میں پہنچ کر نمازِ مغرب و عشاء جلدی ادا کرنا افضل ہے اور طلوعِ فجر سے کچھ دیر پہلے تک ان نمازوں کی تاخیر بھی جائز ہے۔
➌ مغرب و عشاء کی دونوں نمازوں میں کچھ فاصلہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2849]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2849 in Urdu
عبيد الله بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي