پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. (24) باب الأمر بالوضوء من أكل لحوم الإبل
اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کرنے کا حکم
حدیث نمبر: 31
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنَّ رَجُلا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ؟ قَالَ:" إِنْ شِئْتَ فَتَوَضَّأْ، وَإِنْ شِئْتَ فَلا تَتَوَضَّأْ" . قَالَ: أَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ؟ قَالَ:" نَعَمْ، فَأَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ" . قَالَ: أُصَلِّي فِي مَرَابِطِ الْغَنَمِ؟ قَالَ:" نَعَمْ" . قَالَ: أُصَلِّي فِي مَبَارِكِ الإِبِلِ؟ قَالَ:" لا" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ نَرَى خِلافًا بَيْنَ عُلَمَاءِ أَهْلِ الْحَدِيثِ أَنَّ هَذَا الْخَبَرَ صَحِيحٌ مِنْ جِهَةِ النَّقْلِ، وَرَوَى هَذَا الْخَبَرَ أَيْضًا: عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، أَشْعَثُ بْنُ أَبِي الشَّعْثَاءِ الْمُحَارِبِيُّ، وَسَمَّاكُ بْنُ حَرْبٍ، فَهَؤُلاءِ ثَلاثَةٌ مِنْ أَجِلَّةِ رُوَاةِ الْحَدِيثِ قَدْ رَوَوْا عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ هَذَا الْخَبَرَ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ اللہ کے رسول، کیا میں بکریوں کا گوشت کھا کر وضو کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو وضو کر لو اور اگر چاہو تو وضو نہ کرو۔“ اُس نے عرض کی کہ کیا اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کرو۔“ اُس نے پوچھا کہ کیا میں بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کرلوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں (پڑھ لو)“ اُس نے عرض کیا کہ کیا میں اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“اما م ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں علماۓ اہل حدیث کے درمیان اس بات پر اختلاف کا علم نہیں ہے کہ یہ حدیث نقل کے اعتبار سے صحیح ہے- اس روایت کو جعفر بن ابوثور سے اشعث بن ابوشعثاء محاربی اور سماک بن حرب نے بھی روایت کیا ہے۔ اس طرح ان تین اکابر راویوں نے اس حدیث کو جعف بن ابو ثور سے روایت کیا ہے۔ (یعنی عثمان بن عبداللہ، اشعت اور سماک نے یہ روایت بیان کی ہے۔) [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأحداث الموجبة للوضوء/حدیث: 31]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 360، وابن الجارود فى "المنتقى"، 27، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 31، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1124، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 495، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 754، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21143»
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
802
| أأتوضأ من لحوم الغنم قال إن شئت فتوضأ وإن شئت فلا توضأ أتوضأ من لحوم الإبل قال نعم فتوضأ من لحوم الإبل أصلي في مرابض الغنم قال نعم أصلي في مبارك الإبل قال لا |
سنن ابن ماجه |
495
| نتوضأ من لحوم الإبل لا نتوضأ من لحوم الغنم |
صحيح ابن خزيمة |
31
| أتوضأ من لحوم الإبل قال نعم |
صحيح ابن خزيمة |
32
| أصلي في مبارك الإبل قال لا |
بلوغ المرام |
70
| ان رجلا سال النبي اتوضا من لحوم الغنم؟ قال: إن شئت قال: اتوضا من لحوم الإبل؟ قال: «نعم» |
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 31 in Urdu
جعفر بن أبي ثور السوائي ← جابر بن سمرة العامري