صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
264. (31) باب فضل انتظار الصلاة والجلوس فى المسجد وذكر دعاء الملائكة لمنتظر الصلاة الجالس فى المسجد.
نماز کا انتظار کرنے اور مسجد میں بیٹھنے کی فضیلت نیز مسجد میں بیٹھ کر نماز کا انتظار کرنے والے کے لیے فرشتوں کی دعا کا بیان
حدیث نمبر: 359
نا بُنْدَارٌ ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، نا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ رَجُلٍ كَانَ يُوَطِّنُ الْمَسَاجِدَ فَشَغَلَهُ أَمْرٌ أَوْ عِلَّةٌ، ثُمَّ عَادَ إِلَى مَا كَانَ، إِلا تَبَشْبَشَ اللَّهُ إِلَيْهِ كَمَا يَتَبَشْبَشُ أَهْلُ الْغَائِبِ بِغَائِبِهِمْ إِذَا قَدِمَ"
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص بھی مساجد کو اپنا ٹھکانہ بنالیتا ہے پھر اُس کو کوئی کام یا بیماری مشغول کر دیتی ہے۔ پھر وہ اپنی سابقہ حالت پر واپس آجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس کی طرف اس طرح خوشی کا اظہار فرماتے ہیں جس طرح غائب ہونے والے کے گھر والے غائب ہونے والے کی آمد پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: الصلاة/حدیث: 359]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 359، 1503، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1607، 2278، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 776، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 800، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8465، 9976، 9977، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 2455، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 370»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 359 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 359
فوائد:
یہ حدیث دلیل ہے کہ مسجد سے قلبی لگاؤ رکھنے والے اور مسجد کو مسکن بنانے والے شخص سے اللہ تعالیٰ بے حد خوش ہوتا ہے اور ایسا شخص اگر کسی علت وغیرہ سے مسجد سے باہر نکلے تو دوبارہ واپسی پر اللہ تعالیٰ اس قدر فرطِ مسرت کا اظہار فرماتا ہے، جیسے پردیسی کے گھر آنے پر اہل خانہ از حد خوش ہوتے ہیں۔
◈ مناوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کے بے حد خوش ہونے سے مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو نیکی اور انعام و اکرام سے نوازتا ہے۔ [فیض القدیر: 559/5]
یہ حدیث دلیل ہے کہ مسجد سے قلبی لگاؤ رکھنے والے اور مسجد کو مسکن بنانے والے شخص سے اللہ تعالیٰ بے حد خوش ہوتا ہے اور ایسا شخص اگر کسی علت وغیرہ سے مسجد سے باہر نکلے تو دوبارہ واپسی پر اللہ تعالیٰ اس قدر فرطِ مسرت کا اظہار فرماتا ہے، جیسے پردیسی کے گھر آنے پر اہل خانہ از حد خوش ہوتے ہیں۔
◈ مناوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کے بے حد خوش ہونے سے مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو نیکی اور انعام و اکرام سے نوازتا ہے۔ [فیض القدیر: 559/5]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 359]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 359 in Urdu
سعيد بن يسار ← أبو هريرة الدوسي