صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
270. (37) بَابُ تَثْنِيَةِ الْأَذَانِ وَإِفْرَادِ الْإِقَامَةِ بِذِكْرِ خَبَرٍ مُجْمَلٍ غَيْرِ مُفَسَّرٍ بِلَفْظٍ عَامٍّ مُرَادُهُ خَاصٌّ.
اذان کے کلمات دو دو اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار ہیں اس سلسلے میں مذکورہ مجمل غیر مفسر روایت کا بیان جس کے الفاظ عام ہیں اور اس کی مراد خاص ہے
حدیث نمبر: 366
نا بِشْرُ بْنُ هِلالٍ ، نا عَبْدُ الْوَارِثِ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، نا أَبُو أَيُّوبَ . ح حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، نا خَالِدٌ عَنْ مُحَمَّدٍ غَيْرُ مُفَسَّرٍ. ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ ، نا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، نا خَالِدٌ . ح وَحَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، نا هِشَامٌ ، عَنْ خَالِدٍ . ح وَحَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ جُنَادَةَ ، نا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، كِلَيْهِمَا، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" أُمِرَ بِلالٌ أَنْ يَشْفَعَ الأَذَانَ، وَيُوتِرَ الإِقَامَةِ"
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حُکم دیا گیا تھا کہ وہ اذان کے کلمات دو دو بار اور اقامت کے ایک ایک بار کہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 366]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 603، 605، 606، 607، 3457، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 378، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 366، 367، 368، 369، 375، 376، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1675، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 722، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 626، وأبو داود فى (سننه) برقم: 508، والترمذي فى (جامعه) برقم: 193، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 729، 730، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1864، والدارقطني فى (سننه) برقم: 921، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1218»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 366 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 366
فوائد:
➊ یہ مذہب راجح اور قرین صواب ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ کو دوہری اذان اور اکہری اقامت کہنے کا حکم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا، جمہور علماء، فقہاء، اصولیوں اور جمیع محدثین کا بھی یہی موقف ہے۔
البتہ بعض علماء نے اس مسئلہ میں شاذ موقف اختیار کیا ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ کو مذکورہ حکم صادر کرنے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں تھے (بلکہ ابوبکر یا عمر رضی اللہ عنہ تھے) لیکن یہ موقف درست نہیں ہے، صحیح یہ ہے کہ یہ روایت مرفوع ہے۔
➋ «أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ» ۔ بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ وہ دوہری اذان کہیں، یعنی اذان کے کلمات دو دو مرتبہ ادا کریں۔
اور اس مسئلہ پر اجماع وارد ہے، البتہ بعض سلف سے کلمات اذان مفرد کہنے کے بارے میں اختلاف منقول ہے۔
➌ «وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ» ۔ اقامت کے کلمات وتر یعنی اذان کے برعکس اکہرے کہیں۔
➍ «إِلَّا الْإِقَامَةَ» ۔ البتہ اقامت میں ”قد قامت الصلوٰۃ“ کے الفاظ دوہرے کہیں۔
انہیں ایک ایک بار نہیں بلکہ دو دو مرتبہ ادا کیا جائے، نیز شافعی، احمد اور جمہور علماء کا مذہب ہے کہ کلمات اقامت «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ۔» گیارہ ہیں اور یہی مذہب راجح ہے۔
➎ پھر دوہری اذان اور اکہری اقامت کہنے میں حکمت یہ ہے کہ اذان سے مقصود غیر حاضرین اور غائبین کو وقت نماز سے آگاہ کرنا ہے اور تکرار اذان سے اطلاع دینے میں مبالغہ مقصود ہے اور اقامت حاضرین کے لیے کہی جاتی ہے، سو اس کے تکرار کی ضرورت نہیں ہے۔
اس لیے علماء بیان کرتے ہیں کہ اقامت میں اذان کی نسبت آواز پست ہونی چاہیے۔ [شرح النووي: 78/4]
➊ یہ مذہب راجح اور قرین صواب ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ کو دوہری اذان اور اکہری اقامت کہنے کا حکم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا، جمہور علماء، فقہاء، اصولیوں اور جمیع محدثین کا بھی یہی موقف ہے۔
البتہ بعض علماء نے اس مسئلہ میں شاذ موقف اختیار کیا ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ کو مذکورہ حکم صادر کرنے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں تھے (بلکہ ابوبکر یا عمر رضی اللہ عنہ تھے) لیکن یہ موقف درست نہیں ہے، صحیح یہ ہے کہ یہ روایت مرفوع ہے۔
➋ «أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ» ۔ بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ وہ دوہری اذان کہیں، یعنی اذان کے کلمات دو دو مرتبہ ادا کریں۔
اور اس مسئلہ پر اجماع وارد ہے، البتہ بعض سلف سے کلمات اذان مفرد کہنے کے بارے میں اختلاف منقول ہے۔
➌ «وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ» ۔ اقامت کے کلمات وتر یعنی اذان کے برعکس اکہرے کہیں۔
➍ «إِلَّا الْإِقَامَةَ» ۔ البتہ اقامت میں ”قد قامت الصلوٰۃ“ کے الفاظ دوہرے کہیں۔
انہیں ایک ایک بار نہیں بلکہ دو دو مرتبہ ادا کیا جائے، نیز شافعی، احمد اور جمہور علماء کا مذہب ہے کہ کلمات اقامت «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ۔» گیارہ ہیں اور یہی مذہب راجح ہے۔
➎ پھر دوہری اذان اور اکہری اقامت کہنے میں حکمت یہ ہے کہ اذان سے مقصود غیر حاضرین اور غائبین کو وقت نماز سے آگاہ کرنا ہے اور تکرار اذان سے اطلاع دینے میں مبالغہ مقصود ہے اور اقامت حاضرین کے لیے کہی جاتی ہے، سو اس کے تکرار کی ضرورت نہیں ہے۔
اس لیے علماء بیان کرتے ہیں کہ اقامت میں اذان کی نسبت آواز پست ہونی چاہیے۔ [شرح النووي: 78/4]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 366]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 366 in Urdu
عبد الله بن زيد الجرمي ← أنس بن مالك الأنصاري