🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. ‏(‏32‏)‏ باب الرخصة فى ترك غسل اليدين، والمضمضة من أكل اللحم؛ إذ العرب قد تسمي غسل اليدين وضوءا
گوشت کھانے سے ہاتھ نہ دھونے اور کلی نہ کرنے کی رخصت ہے کیونکہ عرب کبھی ہاتھ دھونے کو بھی وضو کہہ دیتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 44
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَكَلَ كَتِفًا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً"
سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شانہ کھایا، پھر نماز پڑھی اور پانی کو ہاتھ نہیں لگایا (یعنی نہ ہاتھ دھوئے نہ کلّی وغیرہ کی) [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأفعال اللواتي لا توجب الوضوء/حدیث: 44]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 44، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم:، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 185، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1829، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 491، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 731، 732، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27145»
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أم سلمة زوج النبي، أم سلمةصحابية
👤←👥زينب بنت أم سلمة المخزومية
Newزينب بنت أم سلمة المخزومية ← أم سلمة زوج النبي
صحابية صغيرة
👤←👥علي زين العابدين، أبو محمد، أبو الحسن، أبو الحسين
Newعلي زين العابدين ← زينب بنت أم سلمة المخزومية
ثقة ثبت
👤←👥محمد الباقر، أبو جعفر
Newمحمد الباقر ← علي زين العابدين
ثقة
👤←👥جعفر الصادق، أبو عبد الله
Newجعفر الصادق ← محمد الباقر
صدوق فقيه إمام
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← جعفر الصادق
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
182
أكل كتفا فجاءه بلال فخرج إلى الصلاة ولم يمس ماء
سنن ابن ماجه
491
أتي رسول الله بكتف شاة فأكل منه وصلى ولم يمس ماء
صحيح ابن خزيمة
44
أكل كتفا ثم صلى ولم يمس ماء
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 44 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 44
فواند:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ آگ پر پکی چیز کھانے کے بعد وضو کا حکم منسوخ ہو چکا ہے لٰہذا آگ پر پکی چیز کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا بلکہ اگر کھانے سے قبل وضو ہو تو آگ پر پکی چیز کھانے کے بعد وضو کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
➋ امام نووی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں کہ جمہور سلف و خلف کا موقف ہے کہ آگ پر پکی چیز کھانا ناقض وضو نہیں ہے۔ چنانچہ ابوبکر صدیق، عمر بن خطاب، عثمان بن عفان، علی بن ابو طالب، عبد اللہ بن مسعود، ابو الدرداء، ابن عباس، عبد الله بن عمر، انس بن مالک، جابر بن سمرہ، زید بن ثابت، ابو موسیٰ، ابو ہریرہ، ابی بن کعب، ابو طلحہ، عامر بن ربیعہ، ابو امامہ اور عائشہ رضی اللہ عنہم کا بھی یہی مذہب ہے۔ جمہور تابعین کا بھی یہی موقف ہے اور مالک، شافعی، ابو حنیفہ، احمد، اسحاق بن راہویہ، یحیحیٰ بن یحییٰ اور ابوخثیمہ رحمہ بھی اس مذہب کے قائل ہیں لیکن عمر بن عبد العزیز، حسن بصری، زہری، ابو قلابہ اور ابو مجلز رحمہ اللہ کا موقف ہے کہ آگ پر پکی چیز کھانے کے بعد شرعی وضو واجب ہے۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے کہ جس چیز کو آگ نے چھوا ہے (اس کے استعمال سے) وضو کرو۔
جب کہ جمہور علماء نے ان احادیث سے استدلال کیا ہے جن میں آگ پر پکی چیز کھانے کے بعد ترکِ وضو کا بیان ہے، وہ ناسخ ہیں اور آگ پر پکی چیز کھانے کے بعد وضو کرنے والی احادیث منسوخ ہیں۔ اور جمہور علماء نے اس حدیث (آگ پر پکی چیز کھانے سے وضو کرو) کے دو جواب دیئے ہیں:
1. یہ حدیث حدیثِ جابر رضی اللہ عنہ کی وجہ سے منسوخ ہے۔ [ابن خزيمه: 43]
2. وضو سے مراد منہ اور ہاتھ دھونا ہے۔
نیز علماء کا یہ باہمی اختلاف صدر اول میں تھا پھر اس کے بعد تمام علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ آگ پر پکی چیز سے وضو کرنا واجب نہیں ہے۔ [نووي: 42/4]
➌ آگ پر پکی چیز کھانے کے بعد وضو بہر حال مستحب ہے۔ منتقی الاخبار کے مصنف کہتے یہ نصوص [احاديث الباب] آگ پر پکی چیز استعمال کرنے کے بعد وضو کے وجوب کی نفی کرتی ہیں۔ استحباب کی نہیں۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سائل کو جس نے سوال کیا تھا کہ ہم بکری کے گوشت سے وضو کریں؟ فرمایا تھا: (تمہاری مرضی ہے) چاہے وضو کرو یا نہ کرو، اگر اس سے وضو مستحب نہ ہوتا تو آپ اسے وضو کرنے کی اجازت نہ دیتے، اس لیے کہ تب یہ اسراف اور صرف پانی کا ضیاع ہوتا۔ [نيل الاوطار: 228/1]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 44]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 44 in Urdu