صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
310. (77) باب إحداث النية عند دخول كل صلاة
ہر نماز کے داخل ہونے پر تجدید نیت کا بیان
حدیث نمبر: Q455
يُرِيدُهَا الْمَرْءُ فَيَنْوِيهَا بِعَيْنِهَا فَرِيضَةً كَانَتْ أَوْ نَافِلَةً، إِذِ الْأَعْمَالُ إِنَّمَا تَكُونُ بِالنِّيَّةِ، وَإِنَّمَا يَكُونُ لِلْمَرْءِ مَا يَنْوِي بِحُكْمِ النَّبِيِّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حدیث نمبر: 455
نا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَدِيٍّ الْحَارِثِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ" زَادَ يَحْيَى بْنِ حَبِيبٍ:" وَإِنَّمَا لامْرِئٍ مَا نَوَى"
جناب علقمہ بن وقاص لیشی بیان کر تے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو سنا، وہ فرما رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہو ئے سنا کہ اعمال کی قبو لیت کا دار و مدار نیت پر ہے۔“ یحییٰ بن حبیب نے ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے، ”اور بلاشبہ ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اُس نے نیت کی۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 455]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1، 54، 2529، 3898، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1907،، وابن الجارود فى "المنتقى"، 71، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 142، 143، 455، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 388، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 75، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2201، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1647، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4227، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 182، والدارقطني فى (سننه) برقم: 131، وأحمد فى (مسنده) برقم: 170، 306، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 37، والحميدي فى (مسنده) برقم: 28»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 455 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 455
فوائد:
یہ حدیث دلیل ہے کہ نماز شروع کرنے سے قبل نماز کی نیت کرنا لازم ہے۔
لہٰذا نماز کا صحیح ہونا نیت پر موقوف ہے۔
نیز نیت کے کوئی مخصوص الفاظ نہیں، بلکہ نیت دل کے ارادے کا نام ہے۔
لہٰذا لوگوں میں رائج نیت کے الفاظ من گھڑت ہیں اور ان کے بارے میں کوئی دلیل قرآن وسنت میں وارد نہیں ہے۔
یہ حدیث دلیل ہے کہ نماز شروع کرنے سے قبل نماز کی نیت کرنا لازم ہے۔
لہٰذا نماز کا صحیح ہونا نیت پر موقوف ہے۔
نیز نیت کے کوئی مخصوص الفاظ نہیں، بلکہ نیت دل کے ارادے کا نام ہے۔
لہٰذا لوگوں میں رائج نیت کے الفاظ من گھڑت ہیں اور ان کے بارے میں کوئی دلیل قرآن وسنت میں وارد نہیں ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 455]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 455 in Urdu
علقمة بن وقاص العتواري ← عمر بن الخطاب العدوي