صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
377. (144) باب ذكر الدليل على أن هذه اللفظة التى ذكرتها لفظ عام مراده خاص،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ جو الفاظ میں ذکر کیے ہیں، یہ عام ہیں، ان سے مراد خاص ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر مرتبہ اٹھتے وقت اللہ اکبر نہیں کہتے تھے بلکہ بعض دفعہ کہتے تھے، آپ رکوع یا سر اٹھاتے وقت اللہ اکبر کہتے تھے بلکہ آپ رکوع سے سراٹھانے کے سوا ہر مرتبہ اٹھتے وقت اللہ اکبر کہتے ہیں
حدیث نمبر: 579
نا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ " يُصَلِّي بِنَا، فَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، وَحِينَ يَرْكَعُ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ، وَبَعْدَ مَا يَرْفَعُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ بَعْدَ مَا يَرْفَعُ مِنَ السُّجُودِ، وَإِذَا جَلَسَ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ، وَيُكَبِّرُ مِثْلَ ذَلِكَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُخْرَيَيْنِ، فَإِذَا سَلَّمَ، قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأَقْرَبُكُمْ شَبَهًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي صَلاتَهُ ، مَا زَالَتْ هَذِهِ صَلاتُهُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا"
جناب ابوسلمہ بن عبد الرحمٰن بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہمیں نماز پڑھایا کرتے تھے، وہ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو «اللهُ أَكْبَرُ» کہتے، اور جب رُکوع کو جاتے، اور جب رُکوع سے سر اُٹھانے کے بعد سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے تو «اللهُ أَكْبَرُ» کہتے۔ اور جب پہلا سجدہ کرنے کے بعد سر اُٹھاتے تو (دوسرا) سجدہ کے لئے «اللهُ أَكْبَرُ» کہتے اور جب (دوسرے سجدے کے بعد) بیٹھتے تو «اللهُ أَكْبَرُ» کہتے۔ اور جب دو رکعتوں کے کھڑے ہوتے تو «اللهُ أَكْبَرُ» کہتے، وہ اسی طرح دوسری دو رکعتوں میں بھی تکبیر کہتے، پھر جب سلام پھیرا تو فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، بیشک میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے قریب نماز ادا کرنے والا ہوں۔ اس دنیا سے رخصت ہونے تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اسی طرح تھی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 579]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 785، 789، 795، 803، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 392، ومالك فى (الموطأ) برقم: 248، وابن الجارود فى "المنتقى"، 205، 214، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 499، 571، 578، 579، 611، 624، 688، 694، 695، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1766، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 817، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 904، وأبو داود فى (سننه) برقم: 738، 836، 934، والترمذي فى (جامعه) برقم: 254، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 853، 860، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2432، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1136، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6272»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة إمام مكثر | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة معمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر عبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي | ثقة حافظ | |
👤←👥محمد بن رافع القشيري، أبو عبد الله محمد بن رافع القشيري ← عبد الرزاق بن همام الحميري | ثقة |
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 579 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي