🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
64. ‏(‏64‏)‏ باب ذكر العلة التى من أجلها زجر عن الاستنجاء بالعظام والروث
اس سبب کا بیان جس کی وجہ سے ہڈی اور لید سے استنجا کرنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 82
نا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، عَنْ دَاوُدَ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، نا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَلْقَمَةَ: هَلْ كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ؟ فَقَالَ عَلْقَمَةُ : أَنَا سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، فَقُلْتُ: هَلْ شَهِدَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ؟ فَقَالَ: لا، وَلَكِنْ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَفَقَدْنَاهُ، فَالْتَمَسْنَاهُ فِي الأَوْدِيَةِ وَالشِّعَابِ، فَقُلْنَا: اسْتُطِيرَ أَوِ اغْتِيلَ، قَالَ: فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا، فَإِذَا هُوَ جَاءٍ مِنْ قِبَلِ حِرَاءَ، قَالَ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَدْنَاكَ، فَطَلَبْنَاكَ فَلَمْ نَجِدْكَ، فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ، قَالَ: " أَتَانِي دَاعِي الْجِنِّ فَذَهَبْتُ مَعَهُ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ"، قَالَ: فَانْطَلَقَ بِنَا فَأَرَانَا نِيرَانَهُمْ، قَالَ: وَسَأَلُوهُ الزَّادَ، فَقَالَ:" لَكُمْ كُلُّ عَظْمٍ ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ يَقَعُ فِي أَيْدِيكُمْ أَوْفَرُ مَا يَكُونُ لَحْمًا، وَكُلُّ بَعْرٍ عَلَفًا لِدَوَابِّكُمْ"، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلا تَسْتَنْجُوا بِهِمَا فَإِنَّهَا طَعَامُ إِخْوَانِكُمْ" . هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الأَعْلَى، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا تَسْتَنْجُوا بِالْعَظْمِ وَلا بِالْبَعْرِ، فَإِنَّهُ زَادُ إِخْوَانِكُمْ مِنَ الْجِنِّ"
حضرت عامر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علقمہ رحمہ اللہ سے پوچھا، کیا سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ جِنّوں (سے ملاقات) والی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر تھے؟ تو حضرت علقمہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو میں نے عرض کی کہ کیا تم میں سے کوئی شخص جِنّوں (سے ملاقات) والی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر تھا؟ تو اُنہوں نے جواب دیا کہ نہیں، لیکن ایک رات ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گم پایا۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (پہاڑوں کی) وادیوں اور گھاٹیوں میں تلاش کیا (لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ ملے) تو ہم نے (آپس میں) کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جِنّوں نے اغوا کر لیا ہے یا دھوکے سے قتل کر دیئے گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے بد ترین رات گزاری جیسے کوئی قوم گزارتی ہے پھر جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حراء کی طرف سے تشریف لاتے ہوئے دکھائی دیے،ہم نے عرض کی کہ اے اللہ کےرسول، ہم نےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گم پایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (ہر جگہ) تلاش کیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نہ ملے، تو ہم نے ایسی بُری رات گزاری جو کوئی قوم گزارتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جِنّوں کا پیغامبر آیا تھا تو میں اُس کے ساتھ گیا اور اُنہیں قرآن مجید کی تلاوت سنائی۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں (اُن کے پڑاؤ کی جگہ) لے گئے اور ہمیں اُن کی (بجھی ہوئی) آگ دکھائی۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اُنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (اپنی) خوراک کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری خوراک ہر وہ ہڈی ہے جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو، تمہارے ہاتھوں میں آتے ہی وہ گوشت سے بھرپور ہوجائے گی۔ اور ہر لید تمہارے چوپایوں کا چارہ ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان دونوں ہڈی اور لید سے استنجا مت کرو کیونکہ وہ تمہارے بھائیوں کا کھانا ہے۔ یہ عبدالاعلیٰ کی روایت ہے۔ ابن ابی زائدہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ہڈی اور لید سے استنجا مت کرو کیونکہ وہ تمہارے بھائی جِنّوں کی خوراک ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الاستنجاء بالأحجار/حدیث: 82]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 450، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 82، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1432، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3879، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 39، وأبو داود فى (سننه) برقم: 39، 84، 85، والترمذي فى (جامعه) برقم: 18، 88، 2861، 3258، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 384، 385، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 26، والدارقطني فى (سننه) برقم: 149، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3858»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥علقمة بن قيس النخعي، أبو شبل
Newعلقمة بن قيس النخعي ← عبد الله بن مسعود
ثقة ثبت
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو
Newعامر الشعبي ← علقمة بن قيس النخعي
ثقة
👤←👥داود بن أبي هند القشيري، أبو محمد، أبو بكر
Newداود بن أبي هند القشيري ← عامر الشعبي
ثقة متقن
👤←👥يحيى بن زكريا الهمداني، أبو سعيد
Newيحيى بن زكريا الهمداني ← داود بن أبي هند القشيري
ثقة متقن
👤←👥زياد بن أيوب الطوسي، أبو هاشم
Newزياد بن أيوب الطوسي ← يحيى بن زكريا الهمداني
ثقة حافظ
👤←👥داود بن أبي هند القشيري، أبو محمد، أبو بكر
Newداود بن أبي هند القشيري ← زياد بن أيوب الطوسي
ثقة متقن
👤←👥عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي، أبو محمد
Newعبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي ← داود بن أبي هند القشيري
ثقة
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي
ثقة ثبت
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 82 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ : 82
فوائد:
یہ حدیث دلیل ہے کہ گوبر اور ہڈی سے استنجا کرنا حرام ہے۔ گوبر اور لید سے استنجا اس لیے منع ہے کہ یہ جنات کی خوراک ہے اور ہڈی جنات کی خوراک ہے۔ اسی طرح محترم چیزیں جیسے جانوروں کے اعضاء یا کتابوں کے اوراق بھی بطور استنجا استعمال نہ کیے جائیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 82]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 82 in Urdu