🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
احکام اور فیصلوں کے متعلق جو مروی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1000
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ: ثنا وَكِيعٌ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْد ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: جَاءَ رَجُلانِ مِنَ الأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْتَصِمَانِ فِي مَوَارِيثَ بَيْنَهُمَا قَدْ دَرَسَتْ لَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، وَإِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ عَلَى نَحْو مِمَّا أَسْمَعُ مِنْكُمْ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْئًا فَلا يَأْخُذْهُ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ يَأْتِي بِهِ إِسْطَامًا فِي عُنُقِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" قَالَ: فَبَكَى الرَّجُلانِ وَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: حَقِّي لأَخِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا إِذْ فَعَلْتُمَا هَذَا، فَاذْهَبَا فَاقْتَسِمَا وَتَوَخَّيَا الْحَقَّ، ثُمَّ اسْتَهِمَا، ثُمَّ لِيَحْلِلْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا صَاحِبَهُ" .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ دو انصاری شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، جن کے درمیان پرانی وراثت کا جھگڑا تھا، ان دونوں کے پاس دلیل نہیں تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ اپنے جھگڑے میرے پاس لے کر آتے ہو، میں بھی ایک انسان ہی ہوں ممکن ہے کہ آپ میں سے کوئی شخص دوسرے سے زیادہ فصیح البیان ہو، میں آپ سے جو سنتا ہوں، اسی کے مطابق فیصلہ کر دیتا ہوں، جس کو میں اس کے بھائی کا کچھ حق دلا دوں، تو وہ نہ لے، کیوں کہ میں اس کے لیے آگ کا ٹکڑا کاٹ رہا ہوں، جسے وہ قیامت کے دن آگ بھڑکانے والے آلے کی صورت میں اپنی گردن میں ڈال کر لائے گا۔ راوی کہتے ہیں: وہ دونوں آدمی روتے ہوئے کہنے لگے: میں اپنا حق اپنے بھائی کو دیتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر آپ ایسے کرنا چاہتے ہیں، تو جائیں اور حق و انصاف کے ساتھ مال کو دو حصوں میں تقسیم کر دیں، پھر آپس میں قرعہ اندازی کریں اور دونوں ایک دوسرے کو معاف کر دیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1000]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 6/320، سنن أبي داؤد: 3584، اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (9514) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أم سلمة زوج النبي، أم سلمةصحابية
👤←👥عبد الله بن رافع المخزومي، أبو رافع
Newعبد الله بن رافع المخزومي ← أم سلمة زوج النبي
ثقة
👤←👥أسامة بن زيد الليثي، أبو زيد
Newأسامة بن زيد الليثي ← عبد الله بن رافع المخزومي
صدوق يهم كثيرا
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← أسامة بن زيد الليثي
ثقة حافظ إمام
👤←👥محمود بن آدم المروزي، أبو أحمد، أبو عبد الرحمن
Newمحمود بن آدم المروزي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
Al-Muntaqa Ibn al-Jarud Hadith 1000 in Urdu