المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
30. باب ما جاء في الأحكام
احکام اور فیصلوں کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 996
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثني عَبْدُ الرَّزَّاقِ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ عَلَى السِرَّاجِ لَيْلَةَ الْوَدَاعِ، قَالَ: أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اجْتَهَدَ الْحَاكِمُ فَأَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ اثْنَانِ، وَإِذَا اجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ وَاحِدٌ" ، قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: وَلا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الثَّوْرِيِّ غَيْرَ مَعْمَرٍ.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی حاکم اجتہاد (کوشش) سے درست فیصلہ کرتا ہے، تو اسے دو اجر ملتے ہیں اور جب کوئی حاکم اجتہاد سے فیصلہ کرتا ہے، لیکن وہ فیصلہ غلط ہوتا ہے، تو اسے بھی ایک اجر ملتا ہے۔ ابو محمد کہتے ہیں: ہمیں معلوم نہیں کہ اس حدیث کو معمر کے علاوہ کسی اور نے ثوری سے بیان کیا ہو۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 996]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح سنن النسائي: 5383، سنن الترمذي: 1326، سنن الدارقطني: 4/204، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن غریب، امام ابو عوانہ رحمہ اللہ (6397) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (5060) نے صحیح کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح سنن النسائي
حدیث نمبر: 997
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَقْضِ الْقَاضِي بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ" .
سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قاضی اگر غصہ کی حالت میں ہو، تو وہ دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 997]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 7158، صحیح مسلم: 1717»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 998
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسٍ ، قَالَ: أنا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ الحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَسْأَلِ الإِمَارَةَ، فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا، وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا" .
سیدنا عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امارت کا سوال مت کریں، اگر آپ کو بغیر مانگے مل جائے، تو آپ کی اس پر مدد کی جائے گی اور اگر طلب کرنے پر دی جائے، تو آپ اس کے حوالے کر دیے جائیں گے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 998]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 6722، صحیح مسلم: 1652»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 999
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ: ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: ثنا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَإِنْ قَضَيْتُ لأَحَدٍ مِنْكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ فَلا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا" ، الْحَدِيثُ لِهَارُونَ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ اپنے جھگڑے میرے پاس لے کر آتے ہیں، میں بھی ایک انسان ہی ہوں ممکن ہے کہ آپ میں سے کوئی شخص دوسرے سے زیادہ فصیح البیان ہو، اگر میں آپ میں سے کسی کے لیے اس کے بھائی کے کسی حق کا فیصلہ کر دوں، تو میں اسے آگ کا ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں، چنانچہ وہ اس میں سے کچھ بھی وصول نہ کرے۔ یہ الفاظ ہارون بن اسحاق کی حدیث کے ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 999]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 7168، صحیح مسلم: 1713»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 1000
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ: ثنا وَكِيعٌ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْد ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: جَاءَ رَجُلانِ مِنَ الأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْتَصِمَانِ فِي مَوَارِيثَ بَيْنَهُمَا قَدْ دَرَسَتْ لَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، وَإِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ عَلَى نَحْو مِمَّا أَسْمَعُ مِنْكُمْ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْئًا فَلا يَأْخُذْهُ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ يَأْتِي بِهِ إِسْطَامًا فِي عُنُقِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" قَالَ: فَبَكَى الرَّجُلانِ وَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: حَقِّي لأَخِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا إِذْ فَعَلْتُمَا هَذَا، فَاذْهَبَا فَاقْتَسِمَا وَتَوَخَّيَا الْحَقَّ، ثُمَّ اسْتَهِمَا، ثُمَّ لِيَحْلِلْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا صَاحِبَهُ" .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ دو انصاری شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، جن کے درمیان پرانی وراثت کا جھگڑا تھا، ان دونوں کے پاس دلیل نہیں تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ اپنے جھگڑے میرے پاس لے کر آتے ہو، میں بھی ایک انسان ہی ہوں ممکن ہے کہ آپ میں سے کوئی شخص دوسرے سے زیادہ فصیح البیان ہو، میں آپ سے جو سنتا ہوں، اسی کے مطابق فیصلہ کر دیتا ہوں، جس کو میں اس کے بھائی کا کچھ حق دلا دوں، تو وہ نہ لے، کیوں کہ میں اس کے لیے آگ کا ٹکڑا کاٹ رہا ہوں، جسے وہ قیامت کے دن آگ بھڑکانے والے آلے کی صورت میں اپنی گردن میں ڈال کر لائے گا۔ راوی کہتے ہیں: وہ دونوں آدمی روتے ہوئے کہنے لگے: میں اپنا حق اپنے بھائی کو دیتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر آپ ایسے کرنا چاہتے ہیں، تو جائیں اور حق و انصاف کے ساتھ مال کو دو حصوں میں تقسیم کر دیں، پھر آپس میں قرعہ اندازی کریں اور دونوں ایک دوسرے کو معاف کر دیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1000]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 6/320، سنن أبي داؤد: 3584، اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (9514) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 1001
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ حَمْزَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ حَمْزَةَ الأَسْلَمِيُّ ، قَالَ: ثني سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حَمْزَةَ ، عَنْ كَثِيرٍ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ مَا وَافَقَ الْحَقَّ مِنْهَا" . وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان اپنی ان شرائط پر ثابت رہیں، جو حق کے موافق ہوں۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کے درمیان صلح کرانا جائز ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1001]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف الحديث حسن: مسند الإمام أحمد: 2/366، سنن أبي داود: 3594، سنن الدارقطنی: 3/27، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (5091) نے صحیح کہا ہے۔ حمزہ بن مالک بن حمزہ اسلمی کے بارے میں حافظ الہیثمی رحمہ اللہ کہتے ہیں: لم أعرفه (مجمع الزوائد: 5/255)۔ حمزہ بن مالک کی متابعت موجود ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف الحديث حسن
حدیث نمبر: 1002
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: ثنا أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدٌّ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمارے اس امر (دین) میں کسی نئی چیز کا اضافہ کیا، جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ مردود ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1002]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2697، صحیح مسلم: 17/1718-18»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 1003
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: ثنا مَعْمَرٌ ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حَبَسَ رَجُلا فِي تُهْمَةٍ سَاعَةً، ثُمَّ خَلَّى عَنْهُ" .
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو تہمت لگانے کے جرم میں تھوڑی دیر کے لیے قید کیا، پھر چھوڑ دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1003]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 2/5، سنن أبي داود: 3630، السنن الكبرى للنسائي: 4879-4880، سنن الترمذي: 1417، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن اور امام حاکم رحمہ اللہ (10214) نے صحیح الاسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔ معمر بن راشد کی اہل بصرہ سے روایت میں کلام ہے۔ بہز بن حکیم بصری ہیں۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 1004
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: ثنا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلانِ يَخْتَصِمَانِ فِي أَرْضٍ، قَالَ أَحَدُهُمَا: إِنَّ هَذَا افْتَرَى عَلَى أَرْضِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَهُوَ امْرُؤُ الْقَيْسِ بْنُ عَابِسٍ الْكِنْدِيُّ، وَخَصْمُهُ رَبِيعَةُ بْنُ عِيدَانَ، فَقَالَ لَهُ: بَيِّنَتُكَ، قَالَ: لَيْسَ لِي، قَالَ: يَمِينُهُ، قَالَ: إِذًا يَذْهَبُ بِهَا، قَالَ: لَيْسَ لَكَ إِلا ذَلِكَ، قَالَ: فَلَمَّا قَامَ يَحْلِفُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اقْتَطَعَ أَرْضًا ظُلْمًا لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ" .
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ دو آدمی آپ کے پاس زمین کا جھگڑا لے کر آئے، ان میں سے ایک جس کا نام امرؤ القیس بن عابس کندی تھا، کہنے لگا: اللہ کے رسول! اس نے زمانہ جاہلیت میں میری زمین پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس کا مد مقابل ربیعہ بن عیدان تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: آپ کے پاس دلیل ہے؟ اس نے کہا: نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اس سے قسم لی جائے گی۔ وہ کہنے لگا: تو وہ زمین لے جائے گا، فرمایا: آپ کے پاس صرف یہی صورت ہے۔ راوی کہتے ہیں: جب وہ قسم اٹھانے کے لیے کھڑا ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے زیادتی کرتے ہوئے کسی سے زمین چھین لی، قیامت والے دن وہ اللہ تعالیٰ سے ملے گا، تو اللہ اس سے ناراض ہو گا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1004]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 139/224»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 1005
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: ثنا الْحَارِثُ بْنُ سَلْمَانَ الْكِنْدِيُّ ، قَالَ: ثنا كُرْدُوسٌ ، عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَجُلا مِنْ كِنْدَةَ، وَرَجُلا مِنْ حَضْرَمَوْتَ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ بِالْيَمَنِ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُو هَذَا، فَقَالَ لِلْكِنْدِيِّ: مَا تَقُولُ؟ قَالَ: أَقُولُ: إِنَّهَا أَرْضٌ فِي يَدِي وَرِثْتُهَا مِنْ أَبِي، فَقَالَ لِلْحَضْرَمِيِّ: هَلْ لَكَ مِنْ بَيِّنَةٍ؟ قَالَ: لا، وَلَكِنْ لِيَحْلِفْ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِاللَّهِ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا هُوَ مَا يَعْلَمُ أَنَّهَا أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُوهُ، فَتَهَيَّأَ الْكِنْدِيُّ لِلْيَمِينِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ لا يَقْتَطِعُ رَجُلٌ مَالا بِيَمِينِهِ إِلا لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ أَجْذَمُ" ، فَرَدَّهَا الْكِنْدِيُّ.
سیدنا اشعث بن قیس کندی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ کندہ اور حضرموت سے ایک ایک آدمی اپنی یمن کی زمین کے متعلق مقدمہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، حضرمی کہنے لگا: اللہ کے رسول! اس (کندی) کے والد نے میری زمین پر ناجائز قبضہ کر لیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کندی سے فرمایا: آپ کیا کہتے ہیں؟ اس نے کہا: میں یہ کہتا ہوں کہ زمین میرے قبضے میں ہے اور مجھے اپنے باپ سے ورثہ میں ملی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے پوچھا: کیا آپ کے پاس کوئی دلیل ہے؟ اس نے کہا: اللہ کے رسول! دلیل تو نہیں ہے، لیکن یہ اس ذات کی قسم کھائے، جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں کہ یہ نہیں جانتا یہ زمین میری ہے، اس کے والد نے مجھ سے زبردستی چھین لی تھی۔ کندی قسم کے لیے تیار ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی (جھوٹی) قسم کے ذریعے کسی سے مال چھینتا ہے، وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے ملے گا، تو اس کا ہاتھ کٹا ہوا ہو گا۔ تو کندی نے زمین اسے واپس کر دی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1005]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 2/215، سنن أبي داود: 3622، السنن الكبرى للبيهقي: 10/180، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (5088) نے صحیح، امام حاکم رحمہ اللہ (4/295) نے صحیح الاسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن