علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
احکام اور فیصلوں کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 1001
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ حَمْزَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ حَمْزَةَ الأَسْلَمِيُّ ، قَالَ: ثني سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حَمْزَةَ ، عَنْ كَثِيرٍ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ مَا وَافَقَ الْحَقَّ مِنْهَا" . وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان اپنی ان شرائط پر ثابت رہیں، جو حق کے موافق ہوں۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کے درمیان صلح کرانا جائز ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1001]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف الحديث حسن: مسند الإمام أحمد: 2/366، سنن أبي داود: 3594، سنن الدارقطنی: 3/27، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (5091) نے صحیح کہا ہے۔ حمزہ بن مالک بن حمزہ اسلمی کے بارے میں حافظ الہیثمی رحمہ اللہ کہتے ہیں: لم أعرفه (مجمع الزوائد: 5/255)۔ حمزہ بن مالک کی متابعت موجود ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف الحديث حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥الوليد بن رباح الدوسي الوليد بن رباح الدوسي ← أبو هريرة الدوسي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥كثير بن زيد الأسلمي، أبو محمد كثير بن زيد الأسلمي ← الوليد بن رباح الدوسي | صدوق يخطئ | |
👤←👥سفيان بن حمزة الأسلمي، أبو طلحة سفيان بن حمزة الأسلمي ← كثير بن زيد الأسلمي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥حمزة بن مالك الأسلمي، أبو صالح حمزة بن مالك الأسلمي ← سفيان بن حمزة الأسلمي | مجهول الحال |
Al-Muntaqa Ibn al-Jarud Hadith 1001 in Urdu
الوليد بن رباح الدوسي ← أبو هريرة الدوسي